براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 172

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۷۰ براہین احمدیہ حصہ سوم ۱۳) مخبط الحواسوں کا سا ہے کہ پہلے ایک چیز کو اپنے منہ سے قوی بشریہ کی بنائی ہوئی مان لیں نمبراا بلکہ یہ وہ آفت ہے کہ کئی آفات اُس سے پیدا ہوتی ہیں جن کی تفصیل ( انشاء اللہ ) اپنے موقعہ پر درج ہوگی۔ خداوند کریم نے جیسا ہر ی چیز کا باہم جوڑ باندھ دیا ہے۔ ایساہی الہام اور عقل کا باہم جوڑ مقرر کیا ہے۔ اس حکیم مطلق کا عام طور پر یہی قانون قدرت پایا جاتا ہے کہ جب تک ایک چیز اپنے جوڑ سے الگ ہے تب تک اس کے جو ہر چھپے رہتے ہیں بلکہ اکثر اوقات نفع کی جگہ ضرر ہوتا ہے۔ ایسا ہی عقل کا حال ہے کہ علم دین میں اس کے نیک آثار تب مترتب ہوتے ہیں جب وہ جوڑ یعنے الہام اس کے ساتھ شامل ہو جائے ۔ ورنہ اپنے جوڑ کے بغیر ڈائن ہو کر ملتی ہے۔ سارا گھر نگلنے کو طیار ہو جاتی ہے۔ سارا شہر سنسان ویران کرنا چاہتی ہے۔ پر جب جوڑ میسر آگیا تب تو چشم بد دور کیا ہی پاک صورت اور پاک سیرت ہے۔ جس گھر میں رہے مالا مال کر دے۔ جس کے پاس جائے اس کی سب نحوستیں اتار دے۔ تم آپ ہی سوچو کہ جوڑ کے بغیر کوئی چیزا کیلی کس کام کی؟ پھر تم کیوں یہ ادھوری عقل اس قدر ناز سے لئے پھرتے ہو۔ کیا یہ وہی نہیں جو کئی بار دروغگوئی میں رسوائیاں اٹھا چکی ؟ کیا یہ وہی نہیں جس کے سر پر بار بار گرنے سے بڑے بڑے داغ موجود ہیں؟ مجھے بتائیے تو سہی کہ آپ کا جی کس پر بھر ما گیا۔ یہ کہاں کی پری آگئی جس کو دل دے بیٹھے؟ کیا تمہیں خبر نہیں کہ اس نے تم سے پہلے کتنوں کا لہو پیا۔ کتنوں کو گمراہی کے کنوئیں میں دھکیل کر مارا تم جیسے کئی یاروں کو کھا چکی ۔ صد ہالاشیں ٹھکانے لگا چکی ۔ بھلا تم نے اس اکیلی عقل کے ذریعے سے کون سی ایسی دینی صداقتیں پیدا کی ہیں جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہیں ۔ زیادہ نہیں دو چار ہی دکھاؤ۔ اگر تم مجرد عقل سے ایسے حقائق عالیہ نکالتے جن کا قرآن شریف میں کچھ ذکر نہ ہوتا تب بھی ایک بات تھی ۔ اور اس صورت میں تم بڑے ناز سے اپنی سماج میں بیٹھ کر کہہ سکتے تھے کہ ہاں ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے وہ صداقتیں نکالیں جو الہامی کتابوں میں موجود نہیں۔ لیکن افسوس کہ تمہارے رسائل میں بجز ان چند امور کے جو بطور سرقہ قرآن شریف سے لئے گئے ہیں اور جو کچھ نظر آتا ہے سراسر متاع رڈی ہے جس سے برخلاف عقلمندی کے آپ لوگوں کی بے علمی اور بے سمجھی اور غلطی ثابت ہوتی ہے جس کی حقیقت انشاء اللہ