براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 170
छापाल روحانی خزائن جلد ۱ ۱۶۸ براہین احمدیہ حصہ سوم انسانی طاقتوں سے باہر ہے اور مؤلف نے ایک خدائی کا کام کیا ہے۔ بلکہ جس کو میں یہ بات داخل ہے کہ جس چیز پر اپنے نفس کو قادر سمجھتا ہے یا جس بات کو اپنی محنت سے پیدا کرتا ہے۔ اس کو اپنے ہی نفس کی طرف منسوب کرتا ہے۔ دنیا میں جس قدر حقوق پیدا ہوتے ہیں صرف اسی خیال سے پیدا ہوتے ہیں کہ ہر یک شخص جس چیز کو اپنی سعی سے حاصل کرتا ہے اس کو اپنی ملک اور اپنا مال جانتا ہے۔ صاحب خانہ اگر یہ سمجھے کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ خدا کا ہے۔ اس میں میرا حق نہیں ہے۔ تو پھر چور کو کیوں پکڑے ۔ اپنے مقروضوں سے قرض کا کیوں مطالبہ کرے۔ بلا شبہ انسان جو کچھ اپنی قوتوں سے کرتا ہے۔ اس کو اپنی ہی طرف نسبت دیتا ہے۔ خدا نے بھی دنیا کے انتظام کے لئے یہیں قانون قدرت رکھا ہے اسی پر ہر یک فطرت مائل ہے۔ مزدور مزدوری کر کے اجرت پانے کا دعویٰ رکھتا ہے۔ نوکر نوکری بجا لا کر اپنی تنخواہ مانگتا ہے۔ ایک کا دخل بے جا دوسرے کے حق پر اس کو مجرم ٹھہرا دیتا ہے۔ غرض یہ بات ہر گز ممکن نہیں کہ مثلاً کوئی شخص تمام رات جاگ کر ایک ایک لمحہ کو اپنی آنکھوں سے نکال کر جنگل میں بھوکا پیاسا رہ کر شدت سردی کی تکلیف اٹھا کر اپنے کھیت میں آبپاشی کرے اور صبح خدا کا ایسا ہی شکر بجالا وے جیسا اس حالت میں بجالاتا کہ وہ ساری رات گھر میں آرام سے سویا رہتا ۔ علی الصباح کھیت پر جا کر اُسے معلوم ہوتا کہ رات بادل آیا اور خوب بارش ہو کر جس قدر ضرورت تھی اس کے کھیت کو بھر دیا ۔ پس ظاہر ہے کہ جو شخص اس بات کا قائل نہیں کہ خدا نے انسان کو عاجز و کمزور اور ناقص اور بے علم اور مغلوب النفس دیکھ کر اور سہو ونسیان میں مبتلا پا کر اُس پر آپ رحمت کر کے الہام کے ذریعہ سے سیدھا راستہ دکھلایا ہے بلکہ یہ خیال کرتا ہے کہ ہم نے آپ ہی محنت اور جانفشانی سے سارا کام خدا کے پتہ لگانے اور اس کے پہچاننے کا کیا ہے۔ وہ ہرگز ہرگز خدا کی شکر گزاری میں اس شخص کے برابر نہیں ہوسکتا جو یقین دلی سے اعتقاد رکھتا ہے کہ خدا نے سراسر لطف و احسان سے میری کسی محنت اور کوشش کے بغیر مجھے کو اپنی کلام سے سیدھے راستہ کی ہدایت کی ہے۔ میں سویا ہوا تھا۔ خدا ہی نے مجھے جگایا۔ میں مرا ہوا تھا۔ خدا ہی نے مجھے جلایا ۔ میں نالائق تھا۔ خدا ہی نے میری دستگیری کی ۔ پس