براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 157

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۵۵ براہین احمدیہ حصہ سوم اُن میں سے عمیق نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اعلیٰ سے ادنی تک بحد یکہ حقیر سے حقیر (۱۵۱) چیزوں کو جیسے مکھی اور مچھر اور عنکبوت وغیرہ ہیں۔ خیال میں لاتے ہیں تو ان میں سے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ فقط مخلوقات پر نظر کرنے والے گزرے ہیں ۔ وہ نتیجہ نکالنے میں کبھی متفق نہیں ہوئے اور نہ اب ہیں اور نہ آئندہ ہونا ممکن ہے۔ ہاں اگر آسمان کے کسی گوشہ پر موٹی اور جلی قلم سے یہ لکھا ہوا ہوتا کہ میں بے مثل و مانند خدا ہوں جس نے ان چیزوں کو بنایا ہے اور جو نیکوں اور بدوں کو ان کی نیکی اور بدی کا عوض دے گا۔ تو پھر بلاشبہ ملاحظہ مخلوقات سے خدا کے وجود پر اور اس کی جزا سزا پر یقین کامل ہو جایا کرتا۔ اور ایسی حالت میں کچھ ضرور نہ تھا کہ خدائے تعالیٰ کوئی اور ذریعہ یقین کامل تک پہنچانے کا پیدا کرتا۔ لیکن اب تو وہ بات نہیں ہے۔ اور خواہ تم کیسی ہی غور سے زمین آسمان پر نظر ڈالو ۔ کہیں اس تحریر کا پتہ نہیں ملے گا۔ صرف اپنا قیاس ہے اور بس۔ اسی جہت سے تمام حکماء اس بات کے قائل ہیں کہ زمین آسمان پر نظر ڈالنے سے وجود باری کی نسبت شہادت واقعہ حاصل نہیں ہوتی ۔ صرف ایک شہادت قیاسی حاصل ہوتی ہے جس کا مفہوم فقط اس قدر ہے کہ ایک صانع کا وجود چاہیئے۔ اور وہ بھی اس کی نظر میں کہ جو وجود اُن چیزوں کا خود بخود ہونا محال سمجھتا ہو۔ لیکن دہریہ کی نظر میں وہ شہادت درست نہیں کیونکہ وہ قدامت عالم کا قائل ہے۔ اسی بناء پر اس کی یہ تقریر ہے کہ اگر کوئی وجود بے موجد جائز نہیں ہے تو پھر خدا کا وجود بے موجد کیوں جائز ہے۔ اگر جائز ہے تو پھر انہیں چیزوں کا وجود جن کو کسی نے بنتے ہوئے بچشم خود نہیں دیکھا بے موجد کیوں نہ مانا جاوے۔ اب ہم کہتے ہیں کہ وجود قدیم حضرت باری میں تب ہی دہریہ کو ایک قیاس پرست کے ساتھ نزاع کرنے کی گنجائش ہے کہ مخلوقات پر نظر کرنے سے واقعی شہادت صانع عالم پر پیدا نہیں ہوتی یعنے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت ایک صانع عالم موجود ہے۔ بلکہ صرف اس قدر ظاہر ہوتا ہے کہ ہونا چاہئے ۔ اور اسی وجہ سے امر معرفت صانع عالم کا صرف قیاسی طور سے دہریہ پر مشتبہ ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ہم اس مطلب کو کسی قدر حاشیہ نمبر ۴ میں بیان کر آئے ہیں جس میں ہم نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ عقل صرف موجود ہونے کی ضرورت کو