براہین احمدیہ حصہ سوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 154 of 849

براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 154

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۵۲ براہین احمدیہ حصہ سوم وہ بعض میں شریک باری تعالیٰ کے ہوئے ۔ اور شریک الباری بہ بداہت عقل ممتنع ہے۔ پس اس دلیل سے ثابت ہے کہ خدا کا اپنی تمام صفات اور اقوال اور افعال میں واحد پایا۔ گھر سے تو کچھ نہ لایا۔ سو طالب حق کو چاہیے کہ اس سے دھوکا نہ کھاوے کہ حروف اور الفاظ مفردہ یا چھوٹے چھوٹے فقرات جو خدا کی کلام میں موجود ہیں وہ انسان کی کلام میں بھی موجود ہیں۔ اور اس بات کو بخوبی یادر کھے کہ یہ عناصر کلام کے ہیں جو خدا کی طرف سے ہیں۔ انسان بھی ان کو اپنے استعمال میں لاتا ہے اور خدا بھی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ خدا کی کلام میں جو لفظاً ومعنا خدا کی کلام ہے وہ الفاظ اور فقرات ایسی ترتیب محکم اور پر حکمت سے اور کمال موزونیت اور اعتدال سے اپنے اپنے محل پر موضوع ہوتے ہیں۔ جیسے سارے کام خدا کے جو دنیا میں پائے جاتے ہیں کمال موزونیت اور اعتدال اور رعایت حکمت سے ہیں ۔ انسان کو اپنی انشاء میں وہ مرتبہ خدائی کا حاصل نہیں ہو سکتا۔ جیسا دوسرے تمام کاموں میں حاصل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کفار قرآن شریف کے مقابلہ پر باوصف دعوائے فصاحت اور بلاغت اور ملک الشعراء کہلانے کے زبان بند کئے بیٹھے رہے اور اب بھی خاموش اور لاجواب بیٹھے ہیں اور یہی خاموشی ان کی بجز پر گواہی دے رہی ہے ۔ کیونکہ بجز اور کیا ہوتا ہے یہی تو عجز ہے کہ مخاصم کی حجت کوسن اور سمجھ کر تو ڑ کر نہ دکھلا دیں ۔ یہاں تک تو اس حاشیے میں کلام الہی کے بے مثل ہونے کی ضرورت ہم نے قانون قدرت کے رو سے ثابت کی ہے۔ لیکن بجز اس کے بے مثل ہونا کلام الہی کا ایک اور طریق سے بھی واجب ٹھہرتا ہے ۔ جس کا بیان کرنا اسی حاشیہ میں قرین مصلحت ہے اور وہ یہ ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ بلا دغدغہ انسان کا ایسا نیک خاتمہ ہو جانا جس پر بالیقین نجات کی اُمید ہو ۔ اس بات پر موقوف ہے کہ اس کو صانع حقیقی کے وجود اور اس کے قادر مطلق ہونے کی نسبت اور اس کے وعدہ جزا سزا کی بابت یقین کامل کا مرتبہ حاصل ہو جائے ۔ اور یہ امر صرف ملا حظہ مخلوقات سے حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس