براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 155
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۵۳ براہین احمدیہ حصہ سوم لاشریک ہونا ضروری ہے اور ذات اس کی ان تمام نالائق امور سے متنزہ ہے جو شریک ۱۴۹ الباری پیدا ہونے کی طرف منجر ہوں ۔ دوسرے ثبوت اس دعوی کا استقراء تام سے ہوتا مرتبہ یقین تک پہنچانے کے لئے ایک ایسی الہامی کتاب کی ضرورت ہے جس کی مثل بنانا انسانی طاقتوں سے باہر ہو۔ اب اس تقریر کو اچھی طرح سمجھانے کے لئے دو باتوں کا بیان کرنا ضروری ہے اول یہ کہ یقینی طور پر نجات کی امید یقین کامل سے کیوں وابستہ ہے۔ دوم یہ کہ وہ یقین کامل صرف ملاحظہ مخلوقات سے کیوں حاصل نہیں ہوسکتا۔ سو پہلے یہ سمجھنا چاہئیے کہ یقین کامل اس اعتقاد صحیح جازم کا نام ہے جس میں کوئی احتمال شک کا باقی نہ رہے۔ اور امر مقصود اتحقیق کی نسبت پوری پوری تسلی اور تشفی دل کو حاصل ہو جائے۔ اور ہر یک اعتقاد جو اس حد سے منزل اور فروتر ہو وہ مرتبہ یقین کامل پر نہیں ہے بلکہ شک یا غایت کارظن غالب ہے۔ اور یقینی طور پر نجات کی امید یقین کامل پر اس لئے موقوف ہے کہ مدار نجات کا اس بات پر ہے کہ انسان اپنے مولیٰ کریم کی جانب کو تمام دنیا اور اس کے عیش و عشرت اور اس کے مال و متاع اور اس کے تمام تعلقات پر یہاں تک کہ اپنے نفس پر بھی مقدم سمجھے۔ اور کوئی محبت خدا کی محبت پر غالب ہونے نہ پاوے۔ لیکن انسان پر یہ بلا وارد ہے کہ وہ بر خلاف اس طریقہ کے جس پر اس کی نجات موقوف ہے۔ ایسی چیزوں سے دل لگا رہا ہے جن سے دل لگانا خدا سے دل ہٹانے کو مستلزم ۱۴۹ کے ہے اور دل بھی ایسا لگایا ہوا ہے کہ یقینی طور پر سمجھ رہا ہے کہ تمام راحت اور آرام میرا انہیں تعلقات میں ہے اور نہ صرف سمجھ رہا ہے بلکہ وہ لذات بہ یقین کامل اس کے لئے مشہود اور محسوس ہیں جن کے وجود میں اس کو ایک ذرا سا شک نہیں۔ پس ظاہر ہے کہ جب تک انسان کو خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی لذت وصال اور اس کی جزا و سزا اور اس کی آلاء نعماء کی نسبت ایسا ہی یقین کامل نہ ہو جیسا اس کو اپنے گھر کی دولت پر اور اپنے صندوق کے گنے ہوئے رو پیوں پر اور اپنے ہاتھ کے لگائے ہوئے باغوں پر اور اپنی زرخرید یا موروثی جائداد پر اور اپنی آزمودہ اور چشیدہ لذتوں پر اور اپنے دل آرام دوستوں پر حاصل ہے تب تک خدا کی طرف جوش دلی سے رجوع لانا محال ہے۔