براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 153
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۵۱ براہین احمدیہ حصہ سوم پھر سب صفات اور افعال میں جائز ہو۔ اور اگر سب صفات اور افعال میں جائز ہو تو پھر ۱۳۷۶ حاشیه نمبراا کوئی دوسرا خدا بھی پیدا ہونا جائز ہو ۔ کیونکہ جس چیز میں تمام صفات خدا کی پائی جائیں ۔ اسی کا نام خدا ہے اور اگر کسی چیز میں بعض صفات باری تعالی کی پائی جائیں تب بھی (۱۳۸) کیا ہے وہ بھی اسی خاک سے پورا کر سکے۔ یہ تو سچ بات ہے کہ مادہ ایجاد اور انشاء کا انسان کے ۱۴۷ ہاتھ میں بھی وہی ہے جس کو خدا اپنے قوانین قدرتیہ کی پابندی سے استعمال میں لاتا ہے۔ پر نعوذ باللہ یہ کب سچ ہوسکتا ہے کہ ایجاد اور انشاء انسان کا خدا کی ایجاد اور انشاء سے برابر ہے۔اگر انسان خدا کا مقابلہ کرنے میں آسانی کی چال بھی چلے یعنے یہ کرے کہ جس مخلوق کے اعضاء متفرق ہو چکے ہوں۔ اسی کی ہڈیاں اور گوشت اور پوست جمع کر کے پھر وہی جاندار بنانا چاہے یا جان نہیں سہی ویسا ہی قالب طیار کرنا چاہے تو یہ بھی اس کے لئے ممکن نہیں ۔ پس انسان ضعیف البنیان خدا کا مقابلہ کیونکر کر سکے۔ اس سے تو حیوانات کا مقابلہ بھی نہیں ہوسکتا۔ بلکہ چھوٹے چھوٹے کیڑوں مکوڑوں کے مقابلہ کرنے سے بھی عاجز ہے اور بعض کیڑے اپنی صنائع میں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ کوئی اس کے لئے ریشم بناتا ہے اور کوئی اس کو شہد کا شربت پلاتا ہے۔ ایسا ہی کوئی کچھ اور کوئی کچھ طیار کرتا ہے اور انسان کو ان میں سے ایک بھی ہنر یاد نہیں ۔ تو پھر دیکھئے نادانی ہے یا نہیں کہ اس منہ اور اس لیاقت سے خدا کے ساتھ مقابلہ۔ چون نیست بیک مکسے تاب ہمسری پس چون کنی بقادر مطلق برابری شرم آیدت زدم زنی خود به کردگار رو قدر خود به بین که ز یک کرم کمتری اس جگہ یہ بات بخوبی یا د رکھنی چاہئے کہ جیسے عناصر جسم انسان کے خدا کی طرف سے ہیں۔ ایسا ہی عناصر کلام کے بھی خدا کی طرف سے ہیں ۔ اور عناصر کلام سے مراد ہماری حروف اور الفاظ اور چھوٹے چھوٹے فقرے ہیں جن پر تعلیم زبان کی موقوف ہے۔ جیسے خدا ہے ۔ بندہ فانی ہے ۔ الحمد لله - رب العالمین وغیرہ وغیرہ یہ سب عناصر کلام ہی ہیں جو خدا نے اپنی طرف سے انسان پر ظاہر کئے ہیں کیونکہ خدا کا صرف اتنا کام نہیں تھا کہ وہ صرف ایک پتلا خاک کا بنا کر پھر الگ ہو جاتا۔ بلکہ ظاہر ہے کہ انسان نے جو کچھ اپنی تکمیل فطرت کے لئے پایا وہ سب خدا ہی سے