براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 150
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۴۸ براہین احمدیہ حصہ سوم سے معلوم کر سکتے ہیں۔ اور جن پر ایک کم فہم لڑکا بھی سرسری نظر مار کر ان کی تہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اور جن کا جاننا کچھ فضیلت علمیہ میں داخل نہیں ۔ بلکہ غایت کا رمثل ان کتابوں کے ہیں جن میں قصے کہانیاں لکھی جاتی ہیں یا جو محض اطفال اور عوام کے مطالعہ کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ تو افسوس ایسی گئی گزری کتابوں پر ۔ کیونکہ یہ امر نہایت صاف اور واضح ہے کہ اگر مضامین کسی کتاب کے صرف عوام الناس کی موٹی عقل تک ہی ختم ہوں اور حقائق دقیقہ کے مرتبہ سے بکلی متنزل ہوں۔ تو وہ کتاب بھی کوئی عمدہ کتاب نہیں کہلاتی۔ بلکہ وہ بھی عقلمندوں کی نظر میں ایسی ہی موٹی اور کم عزت ہوتی ہے۔ جیسے اس کے مضامین موٹے ہیں۔ اور اس کا مضمون کوئی ایسی شے نہیں ہوتا جس کو علوم حکمیہ کی سلک میں منسلک کیا جائے یا حقائق عالیہ کے رتبہ پر سمجھا جائے۔ پس جو شخص اپنی الہامی کتاب کی نسبت ایسا دعوی کرتا ہے کہ اس کی تمام باتیں موٹی اور خفیف ہیں اور ان جمیع صداقتوں سے خالی اور عاری ہیں جو نہایت باریک اور دقیق ہیں اور جن کا جاننا ارباب علم اور نظر اور فکر سے مخصوص ہے تو وہ آپ ہی اپنی کتاب کی توہین کرتا ہے اور اس سے اس کی بیٹی بھی قائم نہیں رہ سکتی کیونکہ جس چیز کی تہ تک پہنچنے میں عوام الناس بھی اس کے ساتھ شریک اور مساوی ہیں۔ اس چیز کے حاصل کرنے سے وہ کسی ایسی فضیلت علمیہ کو حاصل نہیں کر سکتا کہ عوام الناس سے اس کو امتیاز بخشے یا کوئی لقب عالم یا فاضل کا اس کو عطا کرے۔ بلکہ وہ بھی بلا شبہ عوام کا لانعام میں سے ہوگا۔ کیونکہ اس کے علم اور معرفت کا اندازہ عوام سے زیادہ نہیں۔ اور بلاریب ایسی بیہودہ اور ذلیل کتابوں کا علم امور غیبیہ میں داخل نہیں ہوگا ۔ لیکن پھر بھی یہ شرط ہے کہ تعلیمات ان کی ایسی شائع اور متعارف ہوں جن کی نسبت یہ باور کرنے کی وجہ ہو کہ ہر یک ۱۴۵ امی اور نا خواندہ آدمی بھی ادنی توجہ سے اُن کے مضامین پر مطلع ہوسکتا ہے کیونکہ اگر مضامین ان کے شائع اور مشہور نہ ہوں تو گو وہ کیسی ہی بے مغز اور موٹی باتیں ہوں تب بھی اس