براہین احمدیہ حصہ سوم — Page 141
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۳۹ براہین احمدیہ حصہ سوم مضبوط اور لائق سپاہی بہم پہنچا کر سر کار میں بطور مدد کے نذر کی اور اپنی غریبانہ حالت سے بڑھ کر خیر خواہی دکھلائی۔ اور جو مسلمان لوگ صاحب دولت و ملک تھے۔ انہوں نے تو بڑے بڑے خدمات نمایاں ادا کئے ۔ اب پھر ہم اس تقریر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ گو مسلمانوں کی طرف سے اخلاص اور وفاداری کے بڑے بڑے نمونہ ظاہر ہو چکے ہیں ۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے مسلمانوں کی بدنصیبی کی وجہ سے ان تمام وفاداریوں کو نظر انداز کر دیا اور نتیجہ نکالنے کے وقت ان مخلصانہ خدمات کو نہ اپنے قیاس کے صغریٰ میں جگہ دی اور نہ کبری میں۔ بہر حال ہمارے بھائی مسلمانوں پر لازم ہے کہ گورنمنٹ پر ان کے دھوکوں سے متاثر ہونے سے پہلے مسجد دطور پر اپنی خیر خواہی ظاہر کریں ۔ جس حالت میں شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہوں۔ اور جس کی مبارک سلطنت حقیقت میں نیکی اور ہدایت پھیلانے کے لئے کامل مددگار ہو قطعی حرام ہے۔ تو پھر بڑے افسوس کی بات ہے کہ علمائے اسلام اپنے جمہوری اتفاق سے اس مسئلہ کو اچھی طرح شائع نہ کر کے ناواقف لوگوں کی زبان اور قلم سے مور داعتراض ہو تے رہیں۔ جن اعتراضوں سے ان کے دین کی سستی پائی جائے۔ اور ان کی دنیا کو ناحق کا ضرر پہنچے۔ سو اس عاجز کی دانست میں قرین مصلحت یہ ہے کہ انجمن اسلامیہ لاہور و کلکتہ و بتی وغیرہ یہ بندوبست کریں کہ چند نامی مولوی صاحبان جن کی فضیلت اور علم اور زہد اور تقویٰ اکثر لوگوں کی نظر میں مسلم الثبوت ہو۔ اس امر کے لئے چن لئے جائیں کہ اطراف اکناف کے اہل علم کہ جو اپنے مسکن کے گرد و نواح میں کسی قدر شہرت رکھتے ہوں اپنی اپنی عالمانہ تحریریں جن میں برطبق شریعت حقہ سلطنت انگلشیہ سے جو مسلمانان ہند کی مربی ومحسن ہے جہاد کرنے کی صاف ممانعت ہو۔ ان علماء کی خدمت میں یہ ثبت مواہیر بھیج دیں کہ جو بموجب قرار داد بالا اس خدمت کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جب سب خطوط جمع ہوجائیں تو یہ مجموعہ خطوط کہ جو مکتوبات علماء ہند سے موسوم ہو سکتا ہے۔ کسی خوشخط مطبع میں یہ صحت تمام