براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 68
روحانی خزائن جلد ۱ ۶۶ براہین احمدیہ حصہ دوم به یقین کامل واضح ہو جائے گا کہ جن انواع و اقسام کے مفاسد نے آج کل دامن پھیلا رکھا ہے ان کی صورت پہلے فسادوں کی صورت سے بالکل مختلف ہے۔ وہ زمانہ جو کچھ عرصہ پہلے اس سے گزر گیا ہے وہ جاہلا نہ تقلید کا زمانہ تھا اور یہ زمانہ کہ جس کی ہم زیارت کر رہے ہیں یہ عقل کی بد استعمالی کا زمانہ ہے۔ پہلے اس سے اکثر لوگوں کو نا معقول تقلید نے خراب کر رکھا تھا اور اب فکر اور نظر کی غلطی نے بہتوں کی مٹی پلید کر دی ہے یہی وجہ ہے کہ جن دلائل عمیقہ اور براہین قاطعہ لکھنے کی ہم کو ضرورتیں پیش آئیں وہ ان نیک اور بزرگ عالموں کو کہ جنہوں نے صرف جاہلانہ تقلید کا غلبہ دیکھ کرکرتا میں لکھی تھیں پیش نہیں آئی تھیں ۔ ہمارے زمانہ کی نئی روشنی که خاک بر فرق ایں روشنی نو آموزوں کی روحانی قوتوں کو افسردہ کر رہی ہے۔ ان کے دلوں میں بجائے خدا کی تعظیم کے اپنی تعظیم ساگئی ہے اور بجائے خدا کی ہدایت کے آپ ہی ہادی بن بیٹھے ہیں۔ اگر چہ آج کل تقریباً تمام نو آموزوں کا قدرتی میلان وجوہات عقلیہ کی طرف ہو گیا ہے لیکن افسوس کہ یہی میلان باعث عقل نا تمام اور علم خام کے بجائے رھبر ہونے کے رہزن ہوتا جاتا ہے۔ فکر اور نظر کی کجروی نے لوگوں کے قیاسات میں بڑی بڑی غلطیاں ڈال دی ہیں اور مختلف رایوں اور گونا گوں خیالات کے شائع ہونے کے باعث سے کم فہم لوگوں کے لئے بڑی بڑی دقتیں پیش آ گئی ہیں۔ سوفسطائی تقریروں نے نو آموزوں کی طبائع میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں۔ جو امور نہایت معقولیت میں تھے وہ ان کی آنکھوں سے چھپ گئے ہیں۔ جو باتیں بغایت درجہ نا معقول ہیں ان کو وہ اعلیٰ درجہ کی صداقتیں سمجھ رہے ہیں۔ وہ حرکات جو نشاء انسانیت سے مغائر ہیں ان کو وہ تہذیب خیال کئے بیٹھے ہیں اور جو حقیقی تہذیب ہے اس کو وہ نظر استخفاف اور استحقار سے دیکھتے ہیں پس ایسے وقت میں اور ان لوگوں کے علاج کے لئے جو اپنے ہی گھر میں محقق بن بیٹھے ہیں اور اپنے ہی منہ سے میاں مٹھو کہلاتے ہیں ہم نے کتاب براہین احمدیہ کو جو تین سو براہین