براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 122

روحانی خزائن جلد 1 ۱۲۰ براہین احمدیہ حصہ دوم مکے کے لوگوں میں منادی کی کہ میں نبی ہوں۔ اس وقت ان کے ہمراہ کون تھا اور کس بادشاہ ۱۲۷ کا خزانہ ان کے قبضہ میں آ گیا تھا کہ جس پر اعتماد کر کے ساری دنیا سے مقابلہ کرنے کی ٹھہر گئی یا کون سی فوج اکٹھی کر لی تھی کہ جس پر بھروسہ کر کے تمام بادشاہوں کے حملوں سے امن ۱۲۸ ہو گیا تھا۔ ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ اس وقت آنحضرت زمین پرا کیلے اور بے کس اور بے سامان تھے صرف ان کے ساتھ خدا تھا جس نے ان کو ایک بڑے مطلب کے لئے پیدا کیا تھا۔ پھر ذرہ اس طرف بھی غور کرنی چاہئیے کہ وہ کس مکتب میں پڑھے تھے اور کس سکول کا پاس حاصل کیا تھا اور کب انہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں اور آر یہ لوگوں وغیرہ سوجھی اور یہی علاج دل کو پسند آیا جو بقول پادری صاحب خلقت کو پہلے سے بھی بدتر کر دے اور بجائے پیدا کرنے ایک مصلح کے ایسے شخص کو خلقت پر مسلط کر دے جو بزعم پادریوں کے رہی سہی صلاحیت کو بھی دور کرے یعنی خدا کو لہو اور گندگی میں گھس آنے سے پاک سمجھے اور تولد اور موت اور قوت اور درد اور دکھ سے منزہ قرار دے۔ کیا کسی کے خیال میں آ سکتا ہے یا کسی منصف کا انصاف ولی یہ فتوی دیتا ہے جو خدائے کریم ورحیم میں ایسی ہی عادات ہیں اور وہ دنیا کو گمراہ دیکھ کر ایسا ہی بندو بست کیا کرتا ہے جو پہلے سے صد ہا درجہ زیادہ گمراہی میں ڈالتا ہے کسی اہل انصاف پر اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ دنیا میں فساد عام پھیل جانا ایک مصلح کو چاہتا ہے اور ہر یک عاقل کو صریح نظر آتا ہے کہ بروقت غلبہ جہالت اور گمراہی کے خدا کی صفت رہنمائی کی خلقت پر ظاہر ہونی چاہیئے ۔ مگر جو شخص تعصب سے اندھا ہو جائے اس کو کیونکر نظر آوے۔ کیا کبھی اندھے نے کچھ دیکھا ہے کہ وہ بھی دیکھے۔ افسوس کہ پادری لوگ ایسی ایسی ہٹ دھرمی کر کے پھر روز مواخذہ سے