براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 118

روحانی خزائن جلد 1 ۱۱۶ براہین احمدیہ حصہ دوم یا وہ دنیا کس پر دہ زمین میں بستی ہے کہ جہاں رگ اور حجر اور شام اور اتھرون نے توحید الہی کا نقارہ بجا رکھا ہے۔ جو کچھ وید کے ذریعہ سے ہندوستان میں پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ تو یہی آتش پرستی اور شمس پرستی اور بشن پرستی وغیرہ انواع و اقسام کی مخلوق پرستیاں ہیں کہ جن کے لکھنے سے بھی کراہت آتی ہے۔ ہندوستان کے اس سرے سے اس سرے تک نظر اٹھا کر دیکھو جتنے ہندو ہیں سب مخلوق پرستی میں ۱۳۳) ڈوبے ہوئے نظر آویں گے ۔ کوئی مہادیو جی کا پوجاری اور کوئی کرشن جی کا بھیجن گانے والا اور کوئی مورتوں کے آگے ہاتھ جوڑنے والا ۔ ایسا ہی انجیل کا حال ہے۔ کوئی ملک ۱۲۵ قانون قدرت صرف جسمانی پانی میں محدود نہیں بلکہ روحانی پانی بھی شدت اور صعوبت کے وقت میں جو پھیل جانا عام گمراہی کا ہے ضرور نازل ہوتا ہے اور اس جگہ بھی رحمت الہی آفت قلوب کا غلبہ توڑنے کے لئے ضرور ظہور کرتی ہے۔ اور پھر انہیں آیات میں یہ دوسری بات بھی بتلا دی کہ آنحضرت کے ظہور سے پہلے تمام زمین گمراہ ہو چکی تھی اور اسی طرح اخیر پر یہ بھی ظاہر کر دیا۔ کہ ان روحانی مردوں کو اس کلام پاک نے زندہ کیا اور آخر یہ بات کہہ کر کہ اس میں اس کتاب کی صداقت کا نشان ہے۔ طالبین حق کو اس نتیجہ نکالنے کی طرف توجہ دلائی کہ فرقان مجید خدا کی کتاب ہے۔ اور جیسا کہ اس دلیل سے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نبی صادق ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ایسا ہی اس سے آنحضرت کا دوسرے نبیوں سے افضل ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ آنحضرت کو تمام عالم کا مقابلہ کرنا پڑا اور جو کام حضرت محمدوح کو سپرد ہوا وہ حقیقت میں ہزار دو ہزار نبی کا کام تھا۔ لیکن چونکہ خدا کو منظور تھا جو بنی آدم ایک ہی قوم اور ایک ہی قبیلہ کی طرح ہو جائیں اور غیریت اور بیگانگی جاتی رہے اور جیسے یہ سلسلہ وحدت سے شروع ہوا ہے وحدت پر ہی ختم ہو اس لئے اس نے آخری ہدایت کو تمام دنیا کے لئے مشترک بھیجا۔ اور اس وقت زمانہ بھی وہ آ پہنچا تھا کہ باعث کھل جانے راستوں اور مطلع ہونے ایک قوم کے دوسری قوم سے اور ایک ملک کے