براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 115
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۱۳ براہین احمدیہ حصہ دوم وہ بھی واقعہ میں کچی اور ایسی تھی کہ جس کی نہایت ضرورت تھی ۔ اور ان تمام امور ۱۳ کی کی جامع تھی کہ جس سے تمام ضرورتیں زمانہ کی پوری ہوتی تھیں ۔ اور پھر اس تعلیم نے اثر بھی ایسا کر دکھایا کہ لاکھوں دلوں کو حق اور راستی کی طرف کھینچ لائی اور لاکھوں سینوں پر لا اله الا اللہ کا نقش جمادیا اور جو نبوت کی علت غائی ہوتی ہے یعنی تعلیم اصول نجات کے اس کو ایسا کمال تک پہنچایا جوکسی دوسرے نبی کے ہاتھ سے وہ کمال کسی زمانہ میں ہم نہیں پہنچا۔ تو ان واقعات پر نظر ڈالنے سے بلا اختیار یہ شہادت دل سے جوش مار کر نکلے گی کہ آنحضرت ضرور خدا کی طرف سے پس آنحضرت کا ایسی عام گمراہی کے وقت میں مبعوث ہونا کہ جب خود حالت موجودہ زمانہ کی ایک بزرگ معالج اور مصلح کو چاہتی تھی اور ہدایت ربانی کی کمال ضرورت تھی ۔ اور پھر ظہور فرما کر ایک عالم کو تو حید اور اعمال صالحہ سے منور کرنا اور شرک اور مخلوق پرستی کا جو ام الشرور ہے قلع قمع فرمانا اس بات پر صاف دلیل ہے کہ آنحضرت خدا کے سچے رسول اور ۱۲۱ سب رسولوں سے افضل تھے ۔ سچا ہونا ان کا تو اس سے ثابت ہے کہ اس عام ضلالت کے زمانہ میں قانون قدرت ایک بچے ہادی کا متقاضی تھا اور سنت الہیہ ایک رہبر صادق کی مقتضی تھی ۔ کیونکہ قانون قدیم حضرت رب العالمین کا یہی ہے کہ جب دنیا میں کسی نوع کی شدت اور صعوبت اپنے انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو رحمت الہی اس کے دور کرنے کی طرف متوجہ ہوتی ہے جیسے جب امساک باران سے غایت درجہ کا قحط پڑ کر خلقت کا کام تمام ہونے لگتا ہے تو آخر خداوند کریم بارش کر دیتا ہے اور جب وہا سے لاکھوں آدمی مرنے لگتے ہیں تو کوئی صورت اصلاح ہوا کی نکل آتی ہے یا کوئی دوا ہی پیدا ہو جاتی ہے اور جب کسی ظالم کے پنجہ میں کوئی قوم گرفتار ہوتی ہے تو آخر کوئی عادل اور فریا درس پیدا ہو جاتا ہے ۔ پس ایسا ہی جب لوگ خدا کا راستہ بھول جاتے ہیں اور تو حید اور حق پرستی کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ تو خداوند تعالیٰ اپنی طرف سے کسی بندہ کو بصیرت کامل عطا فرما کر اور اپنے کلام اور الہام