براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 114
روحانی خزائن جلد ۱ ۱۱۲ براہین احمدیہ حصہ دوم ۱۲۰ شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کر کے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے ۔ اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعات خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کر کے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔ پس ذرہ ایمانداری سے سوچنا چاہئے کہ یہ سب حالات کیسے آنحضرت کے اندرونی صداقت پر دلالت کر رہے ہیں ۔ ماسوا اس کے جب عاقل آدمی ان حالات پر اور بھی غور کرے کہ وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی آسمانی کی اشد محتاج تھی * اور جو جو تعلیم دی گئی ۔ تو اریخ صاف بتاتی ہے اور فرقان مجید کے کئی مقامات میں کہ جن کا انشاء اللہ فصل اول میں ذکر ہوگا بوضاحت تمام وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس زمانہ میں مبعوث ہوئے تھے کہ جب تمام دنیا میں شرک اور گمراہی اور مخلوق پرستی پھیل چکی تھی ۔ اور تمام لوگوں نے اصول حقہ کو چھوڑ دیا تھا اور صراط مستقیم کو بھول بھلا کر ہر ایک فرقہ نے الگ الگ بدعتوں کا راستہ لے لیا تھا۔ عرب میں بت پرستی کا نہایت زور تھا ۔ فارس میں آتش پرستی کا بازار گرم تھا ۔ ہند میں علاوہ بت پرستی کے اور صد با طرح کی مخلوق پرستی پھیل گئی تھی اور انہیں دنوں میں کئی پوران اور پستک کہ جن کے رو سے بیسیوں خدا کے بندے خدا بنائے گئے اور اوتار پرستی کی بنیاد ڈالی گئی ۔ تصنیف ہو چکی تھی اور بقول پادری بورٹ صاحب اور کئی فاضل انگریزوں کے ان دنوں میں عیسائی مذہب سے زیادہ اور کوئی مذہب خراب نہ تھا اور پادری لوگوں کی بد چلنی اور بداعتقادی سے مذہب عیسوی پر ایک سخت دھبہ لگ چکا تھا ۔ اور مسیحی عقائد میں نہ ایک نہ دو بلکہ کئی چیزوں نے خدا کا منصب لے لیا تھا۔ ۱۲۰ سہو کتابت ہے ۔ صحیح پورٹ ( جان ڈیون پورٹ JOHN DAVENPORT) ہے۔ (ناشر)