براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 105
روحانی خزائن جلد 1 براہین احمدیہ حصہ دوم کہ جو لوگ اس تحقیق اور تدقیق کے مالک ہیں اور جن کے وید مقدس میں بجز آگ اور ہوا اور سورج اور چاند وغیرہ مخلوق چیزوں کے خدا کا پتہ بھی مشکل سے ملتا ہے وہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور حضرت خاتم الانبیاء کو مفتری ٹھہر اویں اور ان کے ادوار مبارک کو مکر اور فریب کے دور قرار دیں اور ان کی کامیابیوں کو جو تائید الہی کے بڑے نمونے ہیں بخت اور اتفاق پر حمل کریں اور ان کی پاک کتابیں جو خدا کی طرف سے عین ضرورتوں کے وقتوں ۱۲ میں ان کو ملیں جن کے ذریعہ سے بڑی اصلاح دنیا کی ہوئی وہ وید کے مضامین مسروقہ خیال کئے جائیں۔ اور تماشا یہ کہ اب تک یہ پتہ نہیں دیا گیا کہ کس طور کے سرقہ کا ارتکاب اور بت پرستی نے توحید کی جگہ نہیں لی۔ اور آئندہ بھی عقل اس پیشین گوئی کی سچائی پر کامل یقین رکھتی ہے کیونکہ جب اوائل ایام میں کہ مسلمانوں کی تعداد بھی قلیل تھی ۔ تعلیم تو حید میں کچھ تزلزل واقع نہیں ہوا بلکہ روز بروز ترقی ہوتی گئی ۔ تو اب کہ جماعت اس موحد قوم کی بیس کروڑ سے بھی کچھ زیادہ ہے کیونکر تزلزل ممکن ہے۔ علاوہ اس کے زمانہ بھی وہ آگیا ہے کہ مشرکین کی طبیعتیں بباعث متواتر استماع تعلیم فرقانی اور دائمی صحبت اہل توحید کے کچھ کچھ تو حید کی طرف میل کرتی جاتی ہیں۔ جدھر دیکھو دلائل وحدانیت کے بہادر سپاہیوں کی طرح شرک کے خیالی اور وہمی برجوں پر گولہ اندازی کر رہے ہیں اور توحید کے قدرتی جوش نے مشرکوں کے دلوں پر ایک ہلچل ڈال رکھی ہے اور مخلوق پرستی کی عمارت کا بودا ہونا عالی خیال لوگوں پر ظاہر ہوتا جاتا ہے اور وحدانیت الہی کی پر زور بندوقیں شرک کے بدنما جھونپڑوں کو اڑاتی جاتی ہیں۔ پس ان تمام آثار سے ظاہر ہے کہ اب اندھیرا شرک کا ان اگلے دنوں کی طرح پھیلنا کہ جب تمام دنیا نے مصنوع چیزوں کی ٹانگ صانع کی ذات اور صفات میں پھنسا رکھی تھی۔ ممتنع اور محال ہے اور جبکہ فرقان مجید کے اصول حقہ کا محرف اور مبدل ہو جانا۔ یا پھر ساتھ اس کے تمام خلقت پر تاریکی شرک اور مخلوق پرستی کا بھی چھا جانا عند العقل محال اور ممتنع ہوا۔ تو نئی شریعت اور نئے الہام کے نازل ہونے میں بھی امتناع عقلی لازم آیا۔ کیونکہ جو امر مستلزم محال ہو وہ بھی محال ہوتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ آنحضرت حقیقت میں خاتم الرسل ہیں۔ منہ