براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 95 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 95

روحانی خزائن جلد 1 ۹۳ براہین احمدیہ حصہ دوم ہیں اور ایسے پر تہذیب فقرے لکھتے ہیں کہ جن سے ان کی طینت کی پاکی خوب ظاہر ہوتی ہے میں نے خوب تحقیق کی ہے کہ ان نالائق حرکات کے بھی دو باعث ہیں کہ جب بعض لوگ حکیمانہ اور معقول کلام کرنے کا مادہ نہیں رکھتے۔ یا جب کسی اہل حق کے الزام اور انجام سے تنگ آجاتے ہیں اور رک جاتے ہیں تو پھر وہ اپنی پردہ پوشی اسی میں دیکھتے ہیں جو علمی بحث کو ٹھٹھے اور ہنسی کی طرف منتقل کر دیں اور اگر کسی اور طور سے نہیں تو اسی طرح سے اپنے ہم مشربوں میں نام حاصل کریں۔ پس ایسے لوگوں کو جو اپنی قوم کے معلم اور اتالیق بن بیٹھتے ہیں۔ بغرض حفاظت اس کلاہ فضیلت کے بات بات میں ضدیت کرنی پڑتی ہے اور عوام لوگوں سے کچھ بڑھ کر مادہ تعصب کا دکھلانا پڑتا ہے اور اگر سچ پوچھو تو ایسوں پر کچھ افسوس بھی نہیں۔ کیونکہ جہالت اور تعصب نے چاروں طرف سے ان کو گھیرا ہوا ہوتا ہے۔ نہ خدا کا کچھ خوف ہوتا ہے اور نہ ایمان اور حق اور راستی کی کچھ پروا ہوتی ہے اور جیفہ دنیا پر مرے جاتے ہیں۔ تو پھر جبکہ ان کو خدا سے کچھ غرض ہی نہیں اور حیا سے اور شرم سے کچھ کام ہی نہیں اور سچ کا قبول کرنا کسی طور سے منظور ہی نہیں تو اس حالت میں اگر وہ او باشانہ باتیں نہ کریں تو اور کیا کریں اور اگر زبان درازی ظاہر نہ کریں تو ان کے ظرف میں اور کیا ہے جو ظاہر کریں۔ اگر بولیں تو کیا بولیں۔ اگر لکھیں تو کیا لکھیں۔ عیسائیوں میں باستثناء ان لوگوں کے کہ جن کو تہذیب اور تحقیق سے کچھ غرض نہیں۔ اس وقت ہزار ہا ایسے شریف النفس اور منصف مزاج پیدا ہوتے جاتے اس اعتراض سے عوام مسیحی بھی خالی نہیں کہ علاوہ اس ذاتی بغض کے جوان کو ۱۰۳ کی حاشیه نمبر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دلوں میں بھرا ہوا ہے باقی تمام نبیوں کی عزت اور تعظیم بھی بجز ایک ذات حضرت مسیح علیہ السلام کے جیسا کہ لائق ہے۔ ہر گز نہیں کرتے ۔ بلکہ جب ہی سے کہ ایک شخص اصطباغ پا کر حضرت عیسی کو خدا کا خاص فرزند خیال کرتا ہے۔ اسی دم سے اور نبیوں کی نسبت اس کی زبان کھل جاتی ہے۔ خصوصاً ایسے ایسے فقروں ۱۰۴