براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 93
روحانی خزائن جلد 1 ۹۱ براہین احمدیہ حصہ دوم کرنا خبث عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجہ کا شریر النفس خیال کرتے ہیں ۔ سو اسی طرح ہر ایک اپنے شریف مخاطب کو اس طرف توجہ دلائی جاتی ہے کہ ان کی کوششیں بھی اس بارے میں مصروف رہنی چاہئیں کہ تمام تحریر ان کی بشرطیکہ کچھ تحریر کریں ۰۲ جیسا کہ مہذب اشخاص کے لائق ہے سراسر تہذیب پر مبنی ہو اور او با شانہ کلام اور ہجو اور ہتک مقدسین اور رسولوں اور نبیوں سے بکلی پاک ہو ۔ یہ منصب تالیفات مذہبی کا بڑا نازک منصب ہے اور اس میں عنانِ حکومت صرف ایک ہی شخص کے ہاتھ میں نہیں ہوتی بلکہ ہر یک حسن اور فتح میں فرق کرنے والے اور منصف اور متعصب اور مفسد اور حق گو کو آنکھوں کو دیکھنے سے معطل چھوڑا ہوا ہے اور کان بھی رکھتے ہیں پر وہ بھی بیکار پڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ چار پائیوں کی طرح ہیں۔ بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ۔ غرض کلام الہی کا یہ نہایت عمدہ کام ہے کہ جو جو طاقتیں اور قوتیں انسان کی فطرت میں ڈالی گئی ہیں ان کو بطور اصلح اور انسب کے استعمال میں لانے کی تاکید کرے تا کوئی قوت اور طاقت جو عین حکمت اور مصلحت سے انسان کو عطا کی گئی تھی ضائع نہ ہو جائے یا بطور افراط یا تفریط کے استعمال میں نہ لائی جائے اور منجملہ ان سب طاقتوں کے ایک عقل بھی طاقت ہے کہ جس کی تکمیل میں شرف انسان کا ہے۔ اور جس کے ٹھیک ٹھیک استعمال میں لانے سے انسان حقیقی طور پر انسان بنتا ہے اور اپنے کمال مطلوب کو پہنچتا ہے اور وہی ایک آلہ انسان کے ہاتھ میں ہے جو بے انتہا ترقیات کے حاصل کرنے کے لئے عام طور پر اس کو دیا گیا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ اگر الہامی کتاب اس آلہ کی مد اور معاون اور محافظ نہ ہو بلکہ یہ تعلیم دے جو اس آلہ کو بالکل معطل چھوڑ دینا چاہے تو ایسی کتاب بجائے اس کے جو انسان کی فطرتی طاقتوں کو وضع استقامت پر چلا وے خودان طاقتوں کو وضع استقامت پر چلنے سے روکے گی اور بجائے اس کے جو کچھ یاری اور مددگاری کرے خود رہنزن اور مفضل بن جائے گی اور جو کچھ اس کے ذریعہ سے سیکھا اور سمجھایا جائے گا۔ وہ ایسی شے نہ ہوگی کہ جس کو علم اور حکمت کہا جاوے بلکہ صرف خام طبع اور غیر معقول اعتقادوں اور بے جا ہوسوں حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے چاہیے “ہونا چاہیے۔(ناشر)