براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 80 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 80

٩٠ روحانی خزائن جلد 1 ۷۸ براہین احمدیہ حصہ دوم شخص صاحبو! میں نے یہ یقین تمام مع بہ یقین تمام معلوم کر لیا ہے اور جو شخص ان باتوں پر غور کرے گا کہ جن پر میں نے غور کی ہے وہ بھی یہ یقین تمام معلوم کر لے گا کہ وہ سب اصول کہ جن پر ایمان لانا ہر یک طالب سعادت پر واجب ہے اور جن پر ہم سب کی نجات موقوف ہے اور جن سے ساری اُخروی خوشحالی انسان کی وابستہ ہے وہ صرف قرآن شریف ہی میں محفوظ ہیں اور کی معرفت اصول حقہ کے لئے یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ نہیں سواگر چہ یہ وہم ان کا الہام کے بحث میں جو انشاء اللہ عنقریب بہ تفصیل تمام اسی کتاب میں درج ہو گی جیسا کہ چاہیئے دور کیا جائے گا مگر اس مقام میں بھی وہم مذکور کا قلع و قمع کرنا ضروری ہے سو واضح ہو کہ اگر چہ یہ سچ بات ہے کہ عقل بھی خدا نے انسان کو ایک چراغ عطا کیا ہے کہ جس کی روشنی اس کو حق اور راستی کی طرف کھینچتی ہے اور کئی طرح کے شکوک اور شبہات سے بچاتی ہے اور انواع اقسام کے بے بنیاد خیالوں اور بے جا وساوس کو دور کرتی ہے نہایت مفید ہے بہت ضروری ہے بڑی نعمت ہے مگر پھر بھی باوجود ان سب باتوں اور ان تمام صفتوں کے اس میں یہ نقصان ہے کہ صرف وہی اکیلی معرفت حقائق اشیاء میں مرتبہ یقین کامل تک نہیں پہنچا سکتی کیونکہ مرتبہ یقین کامل کا یہ ہے کہ جیسا کہ حقائق اشیاء کے واقعہ میں موجود ہیں انسان کو بھی ان پر ایسا ہی یقین آ جائے کہ ہاں حقیقت میں موجود ہیں مگر مجرد عقل انسان کو اس اعلیٰ درجہ یقین کا مالک نہیں بنا سکتی کیونکہ غایت درجہ حکم عقل کا یہ ہے کہ وہ کسی شے کے موجود ہونے کی ضرورت کو ثابت کرے جیسا کسی چیز کی نسبت یہ حکم دے کہ اس چیز کا ہونا ضروری ہے یا یہ چیز ہونی چاہئے مگر ایسا حکم ہر گز نہیں دے سکتی کہ واقعہ میں یہ چیز ہے بھی اور یہ پایہ یقین کامل کا کہ علم انسان کا کسی امر کی نسبت ہونا چاہیئے کے مرتبہ سے ترقی کر کے ہے کے مرتبہ تک پہنچ جائے تب حاصل ہوتا ہے کہ جب عقل کے ساتھ کوئی دوسرا ایسا رفیق مل جاتا ہے کہ جو اس کی قیاسی وجوہات کو تصدیق کر کے واقعات مشہودہ کا لباس پہناتا ہے یعنے جس امر کی نسبت عقل کہتی ہے کہ ہونا چاہیئے وہ رفیق اس امر کی نسبت یہ خبر دے دیتا ہے کہ واقعہ میں وہ امر موجود بھی ہے۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں عقل صرف ضرورت شے کو ثابت کرتی ہے خود شے کو ثابت نہیں کر سکتی۔ اور ظاہر ہے کہ کسی شے کی ضرورت کا ثابت ہونا