برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 17

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۷ بركات الدعاء قابل تغیر و تبدیل نہیں کیونکہ تقدیر کے مفہوم کو اختیار مقد ر لازم پڑا ہوا ہے۔ پس ظاہر ہے کہ جن خواص پر خدا تعالیٰ کا کچھ بھی اختیار باقی نہیں رہا۔ تو پھر اُن خواص کو اُس کی تقدیر کیونکر کہنا چاہیے اور اگر اختیار ہے تو پھر امکان تبدیل باقی ہے ۔ غرض سید صاحب نے اس دوسرے رسالہ میں مقد رحقیقی کی حکومت تمام چیزوں کے سر پر سے ایسی اُٹھا دی ہے کہ وہ اپنے خواص میں ( بقول سید صاحب ) تابع مرضی مالک نہیں رہیں ۔ بلکہ ایکٹ مزارعان کی پانچویں دفعہ کے موروثیوں کے لئے جو حقوق انگریزوں نے قائم کئے ہیں یعنی یہ کہ (۱۳ مالک کو کسی قسم کے تصرف کا اُن پر اختیار نہیں ہو گا۔ اسی قسم کے موروثی سید صاحب نے بھی تمام چیزوں آگ وغیرہ کو ٹھہرا دیا ہے بلکہ سید صاحب کے قانون میں انگریزوں کے قانون سے زیادہ تشدد ہے کیونکہ انگریزوں نے پانچویں دفعہ کے موروثی کے اخراج کے لئے ایک صورت قائم بھی کر دی ہے اور وہ یہ کہ جب موروثی ایک سال تک لگان واجب کا ایک حصہ خواہ ۲ ( دوآنہ ) بھی ہوں ادا نہ کرے تو خارج ہو سکتا ہے مگر سید صاحب نے تو ہر حال میں حقوق مالک کو تلف کر دیا ۔ اور یہ ظلم عظیم ہے۔ اور سید صاحب نے جو اپنے دوست حریف سے تفسیر قرآن کریم کا معیار مانگا ہے سو میں نے مناسب سمجھا کہ اس جگہ بھی سید صاحب کی کسی قدر میں ہی خدمت کر دوں کیونکہ بھولے کو راہ بتانا سب سے پہلے میرا فرض ہے ۔ سو جاننا چاہیے کہ سب سے اوّل معیار تفسیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں ۔ یہ بات نہایت توجہ سے یا د رکھنی چاہیے (۱۵) کہ قرآن کریم اور معمولی کتابوں کی طرح نہیں جو اپنی صداقتوں کے ثبوت یا انکشاف کے لئے دوسرے کا محتاج ہو ۔ وہ ایک ایسی متناسب عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ ہلانے سے تمام عمارت کی شکل بگڑ جاتی ہے ۔ اس کی کوئی صداقت