برکاتُ الدُّعا — Page 18
روحانی خزائن جلد ۶ ۱۸ بركات الدعاء ایسی نہیں ہے جو کم سے کم دس یا ہیں شاہد اس کے خود اُسی میں موجود نہ ہوں ۔ سو اگر ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک معنے کریں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ان معنوں کی تصدیق کے لئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں ۔ اگر دوسرے شواہد دستیاب نہ ہوں بلکہ ان معنے کے دوسری آیتوں سے صریح معارض پائے جاویں تو ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وہ معنی بالکل باطل ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو۔ اور سچے معنوں کی یہی نشانی ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک لشکر شواہد بینہ کا اس کا مصدق ہو۔ دوسرا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہے ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے معنے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے نہیں تو اُس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہوگی ۔ تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت کے نوروں کو حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالی کا اُن پر بڑا افضل تھا اور نصرت الہی اُن کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی کیونکہ اُن کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔ چوتھا معیار خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ہے کیونکہ نفس مطہرہ سے قرآن کریم کو مناسبت ہے ۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ یعنی قرآن کریم کے حقائق صرف اُن پر کھلتے ہیں جو پاک دل ہوں کیونکہ مطہر القلب انسان پر قرآن کریم کے پاک معارف بوجہ مناسبت کھل جاتے ہیں اور وہ اُن کو شناخت کر لیتا ہے اور سونگھ لیتا ہے اور اُس کا دل بول اُٹھتا ہے کہ ہاں یہی راہ بچی ہے۔ اور اُس کا نور قلب سچائی کی پر کچھ کے لئے ایک عمدہ معیار ہوتا ہے۔ پس جب تک انسان صاحب حال نہ ہو اور اس تنگ راہ سے الواقعة: ٨٠