برکاتُ الدُّعا — Page xxxvi
عیسائی صاحبان و محمدؐی صاحبان کے روبرو اسی وقت اپنا چیلنج پورا کیجئے۔‘‘ (جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد۶صفحہ ۱۵۰۔۱۵۱) فریق مخالف کا یہ وار کاسر صلیب کے مقابلہ میں بیسیوں موافق و مخالف کے روبرو بالکل ایسا ہی تھا جیسا کہ حضرت موسی علیہ السلام کے مقابلہ میں ساحروں نے اپنے سونٹے اور رسیّاں جو حاضرین کو دوڑتی ہوئی نظر آئیں پھینک کر اپنے غالب آنے کا اعلان کر دیا تھا جس سے حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں بھی ڈر پیدا ہوا کہ کہیں مخلوقِ خدا پر اُن کی اس ساحرانہ کارروائی کو دیکھ کر حق مشتبہ نہ ہو جائے۔تب اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اُسی وقت اپنا عصا پھینکنے کا ارشاد فرمایا اور بشارت دی کہ تو ہی غالب اور فتحیاب ہو گا۔لیکن اس جگہ مباحثہ کے سُننے والوں کے دلوں میں پریشانی ہوئی ہو تو ہو اور انہوں نے خیال کیا ہو کہ اب اس وار کا کیا جواب دے سکیں گے۔اور عیسائی تو دل میں بے انتہا خوشی محسوس کر رہے تھے کہ ہم نے ایسا وار کیا ہے جس کا نتیجہ لازمی طور پر ہماری فتح ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کا شیر جو پہلے سے اپنے حیّ و قادر خدا سے اس جنگ میں فتح کی بشارت پا چکا تھا۔مطمئن بیٹھا تھا۔آپ کے چہرہ پر پریشانی کا کوئی اثر نہ تھا۔البتہ بے تابی سے اپنے وقت کا منتظر تھا تا پادریوں کے دجل کو ھباءً منثورًاکر کے دکھا وے۔سو جب پادری آتھم اپنا بیان لکھوا چکے اور آپ کے بیان لکھوانے کا وقت آیا تو آپ نے نہایت جلالی رنگ میں اپنا بیان لکھوانا شروع کیا۔فرمایا کہ اگر آپ سچے عیسائی ہیں تو بتائیں کہ ’’آپ کے مذہب میں حضرت عیسٰیؑ نے جو نشانیاں نجات یا بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہاں موجود ہیں۔مثلاً جیسے مرقس ۱۷۱۶میں لکھا ہے:۔’’اور وے جو ایمان لائیں گے اُن کے ساتھ یہ علامتیں ہوں گی۔۔۔وے بیماروں پرہاتھ رکھیں گے تو چنگے ہو جائیں گے‘‘ ’’تو اب مَیں بااَدب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا مرارت ہو تو اس کی معافی چاہتاہوں کہ یہ تین بیمار جو آپ نے پیش کئے ہیںیہ علامت تو بالخصوصیت مسیحیوں کے لئے حضرت عیسٰیؑ قرار دے چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم سچے ایماندار ہو تو تمہاری یہی علامت ہے کہ بیمار پر ہاتھ رکھو گے تو وہ چنگا ہو جائے