برکاتُ الدُّعا — Page xxxiv
یہ جنگ مقدس جو کاسر صلیب اور حامیان صلیب کے مابین ہوئی۔اِس میں میدان اسلام کے پہلوان کے ہاتھ رہا۔اور کسرِ صلیب ایسے رنگ میں ہوا کہ پھر صلیب جُڑنے کے قابل نہ رہی۔مسلمان خوش ہوئے اورحامیانِ صلیب کے ہاں صفِ ماتم بچھ گئی۔مسیح موعودؑ کا روحانی حربہ احادیث میں آتا ہے کہ مسیح موعود دجّال کو اپنے حربہ (برچھی) کے ایک ہی وار سے قتل کر دے گا اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ وہ بابِ لُدّ میں قتل کرے گا۔اور لُدّ عربی زبان میں اَلَدّ کی جمع ہے یعنی ایسے لوگ جو جدال اور مباحثہ میں غالب آ جائیں۔سو اس میں اس طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ مسیح موعودؑ اور آپ کے ساتھی دجّال کو مباحثات کے دروازے سے قتل کریں گے۔چنانچہ یہ پیشگوئی اپنی پوری شان سے پوری ہوئی۔کاسرِ صلیب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ابتدائے مناظرہ میں ہی ایک ایسا وار کیا جس سے آپ کا حریف پادری عبداﷲ آتھم اور اس کے مددگار آخردم تک نیم مُردہ کی مانند آئیں بائیں شائیں تو کرتے رہے لیکن حقیقی جواب نہ اُن سے ہو سکتا تھا اور نہ ہوا۔آپؑ کا وہ کامیاب وار یہ تھا۔آپؑ نے فرمایا:۔’’واضح ہو کہ اِس بحث میں یہ نہایت ضروری ہو گا کہ جو ہماری طرف سے کوئی سوال ہو یا ڈپٹی عبداﷲ آتھم کی طرف سے کوئی جواب ہو وہ اپنی طرف سے نہ ہو بلکہ اپنی اپنی الہامی کتاب۱ کے حوالہ سے ہو۔جس کو فریق ثانی حجّت سمجھتا ہو۔اور ایسا ہی ہر ایک دلیل۲ اور ہر ایک دعو۳یٰجو پیش کیا جاوے وہ بھی اِسی التزام سے ہو غرض کوئی فریق اپنی اس کتاب کے بیان سے باہر نہ جائے جس کا بیان بطور حجت ہو سکتا ہے۔‘‘ (جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ۸۹) سارے مباحثہ کو از ابتداء تا انتہا پڑھ جاؤ۔یہ امر واضح ہو جائے گا کہ عیسائی مناظر آخر دم تک اس معیارپر پورا نہیں اتر سکا بلکہ تعجب ہے کہ وہ دعویٰ اور دلیل میں بھی فرق نہیں کر سکا۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن مجید سے جو دعویٰ پیش کیا اس کے اثبات میں عقلی دلائل بھی قرآن مجید سے ہی پیش کئے۔