برکاتُ الدُّعا — Page xxxiii
سکتے ہیں۔قیمت آنے ہے۔لاہور سے مل سکتی ہے۔‘‘ اِس اشتہار میں ڈاکٹر کلارک نے مسلمانانِ جنڈیالہ کو مخاطب کر کے لکھا:۔’’آپ ایک ایسے بزرگ کو بحث کے لئے پیش کرتے ہو جن کو اوّلاًایک محمدی شخص بھی تصوّر کرنا مشکل ہے آپ کن خیالوں میں مبتلا ہو رہے ہیں کیا آپ نے وہ فتویٰ جو کہ علمائے اسلام پنجاب و ہندوستان نے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے حق میں شائع کئے ہیں نہیں دیکھے۔‘‘ نیز لکھا:۔’’آپ عجب غفلت میں پڑے ہیں کہ اب تک اس کتاب (یعنی اشاعۃ السنہ۔ناقل) کو نہیں دیکھا آفرین آپ پر اور جنڈیالہ کے اہلِ اسلام کی ہمّت پر جس کا جنازہ بھی جائز نہیں اُسی کو آپ نے پیشوا مقرر کیا۔واہ صاحب واہ۔آپ کی یہ خوش فہمی۔‘‘ (سچائی کا اظہار۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۷۳) مگر جنڈیالہ کے مسلمانوں نے اس اشتہار سے ذرہ جنبش نہ کھائی اور میاں محمد بخش صاحب نے حضرات پادری صاحبان کو نہایت دندان شکن جواب دیا۔لکھّا ’’کہ کوئی مذہب اختلاف سے خالی نہیں اور عیسائی بھی اِس سے باہر نہیں اور ہم ایسے مولویوں کو خود مفسد سمجھتے ہیں جو ایک مسلمان موئد اسلام کو کافر ٹھہراتے ہیں۔‘‘ (سچائی کا اظہار۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۷۳، ۷۴) اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پادریوں پر واضح کر دیا کہ آپ کی تحریریں اور وعدے آپ کی منظور کردہ شرائط ہمارے پاس ہیں۔لہٰذا اب آپ کو یا تو بحث کرنا ہو گی یا شکست تسلیم کرنا ہو گی۔اگر آپ دوسرے مولویوں سے بحث کرنا چاہتے ہیں تو پہلے منظور کردہ بحث میں اپنی شکست کا اخبارات میں اعلان کریں۔آخر کار جب پادریوں کو فرار کی کوئی راہ دکھائی نہ دی تو بادلِ ناخواستہ انہیں مباحثہ کا تلخ پیالہ پینا پڑا۔اور مباحثہ ڈاکٹر کلارک کی کوٹھی پر فریقین کی منظورشدہ شرائط کے مطابق ۲۲؍ مئی ۱۸۹۳ء سے شروع ہو کر ۵؍ جون ۱۸۹۳ء کو ختم ہوا۔