برکاتُ الدُّعا — Page xxxii
ہاتھ دھرا اور کہا۔ڈاکٹر صاحب اگر ایک سو دوسرے مولوی ہوتے تو کچھ پروا ہ نہ تھی۔تم نے کہاں بھڑوں کے چھتّہ میں ہاتھ ڈال دیا۔مرزا قادیانی کا مقابلہ کرنا اور اُن سے نپٹنا آسان نہیں سخت مشکل کام ہے۔تم نے ہی یہ فتنہ اُٹھایا ہے۔تم ہی اس کام کو کرو۔میں ہرگز نہیں جاؤں گا اور نہ اِس میں شریک ہوں گا۔ڈاکٹر صاحب نے کہا۔عیسائی قوم کے تم ہی پہلوان ہو۔تم ہی یہ کام خوش اسلوبی سے سر انجام دے سکتے ہو تمہارے بھروسہ پر میں نے یہ کام شروع کیا ہے اور تم اس سے انکار کرتے ہو۔تمہیں ضرور شامل ہونا پڑے گا۔آخر پون گھنٹہ کی گفتگو کے بعد ہلاشیری دلاکر ڈاکٹر صاحب آتھم صاحب کو ساتھ ہی لے آئے اس گفتگو کا علم عبداﷲ آتھم صاحب کے مسلمان خانساماں سے بعد میں ہوا۔جب دونوں آئے اور کرسیوں پر بیٹھے تو آتھم صاحب کی زبان سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے کہ ’’ہائے مَیں مر گیا‘‘ اس کے بعد شرائط طے ہوئیں‘‘۔۱ جب پادری آتھم صاحب سے امرتسر اور بٹالہ کے مولویوں نے اُن کی کوٹھی پر جا کر یہ کہا کہ تم نے دوسرے علماء سے بحث کیوں منظور نہ کی۔مرزا صاحب سے کیوں بحث پر رضا مندی ظاہر کی اُن کو تو تمام علماء کافر کہتے ہیں تو انہوں نے اس موقعہ کو غنیمت جان کر ڈاکٹر کلارک سے کہا کہ ’’میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ مرزا صاحب سے بحث کرنا آسان نہیں اب یہ موقعہ اچھا ہاتھ آ گیا ہے۔مرزا صاحب کو جواب دے دو اور اِن مولویوں سے بے شک مباحثہ کر لو کوئی ہرج نہیں۔۲ ‘‘ اس پر ڈاکٹر کلارک نے ۱۲؍ مئی ۱۸۹۳ء کو ایک اشتہار لکھا جو بطور ضمیمہ ’’نور افشاں‘‘ ۱۲؍ مئی ۱۸۹۳ء کو شائع ہوا اور اس اشتہار کی اشاعت سے اُن کی غرض سوائے اس کے کچھ نہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مباحثہ نہ ہو۔اس غرض سے ا نہوں نے مسلمانانِ جنڈیالہ کو آپ سے بدظن کرنے کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور دیگر علماء کے تکفیری فتاویٰ کا ذکر کیا جو ’’اشاعۃ السنہ‘‘ میں شائع ہوئے تھے اور ’’اشاعۃ السنہ‘‘ کی خریداری کے متعلق بھی اعلان کر دیا کہ ’’ کتاب اشاعۃ السنۃ النبویۃ مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب سے منگوا کر دیکھ