برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxix of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxix

جائے اور فریقین مباہلہ میں یہ دعا کریں۔’’مثلاً فریق عیسائی یہ کہے کہ وہ عیسیٰ مسیح ناصری جس پرمیں ایمان لاتا ہوں وہی خدا ہے اور قرآن انسان کا افترا ہے خدا تعالیٰ کی کتاب نہیں اور اگر مَیں اس بات میں سچا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل ہو جس سے میری رسوائی ظاہر ہو جائے اور ایسا ہی یہ عاجز دُعا کرے گا کہ اے کامل اور بزرگ خدا میں جانتا ہوں کہ درحقیقت عیسیٰ مسیح ناصری تیرا بندہ اور تیرا رسول ہے خدا ہرگز نہیں اور قرآن کریم تیری پاک کتاب اور محمد مصطفٰی صلی اﷲ علیہ وآلہ ٖ وسلم تیرا پیارا اور برگزیدہ رسول ہے اور اگر میں اس بات میں سچّا نہیں تو میرے پر ایک سال کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل کر جس سے میری رسوائی ظاہر ہو جائے اور اے خدا میری رسوائی کے لئے یہ بات کافی ہو گی کہ ایک برس کے اندر تیری طرف سے میری تائید میں کوئی ایسا نشان ظاہر نہ ہو جس کے مقابلہ سے تمام مخالف عاجز رہیں۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۷۰) آسمانی نشان دکھانے کے لئے دعوت اِس کے بعد آپؑ نے وہ اشتہار لکھا جس کا عنوا ن ہے ’’ڈاکٹر پادری کلارک کا جنگ مقدس اور ان کے مقابلہ کے لئے اشتہار‘‘ ۱؂ اِس میں مختصر طور پر مناظرہ کی طے شدہ شرائط کے ذکر کے علاوہ مباحثہ کے بعد مباہلہ اور نشان نمائی کی دعوت دی گئی ہے۔مباہلہ کے متعلق حضورؑ نے فرمایا:۔’’وہ صرف اس قدر کافی ہے کہ فریقین اپنے مذہب کی تائید کے لئے خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان چاہیں اور ان نشانوں کے ظہور کے لئے ایک سال کی میعاد قائم ہو پھر جس فریق کی تائید میں کوئی آسمانی نشان ظاہر ہو جو انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو جس کا مقابلہ فریق مخالف سے نہ ہو سکے تو لازم ہو گا کہ فریق مغلوب اس فریق کا مذہب اختیار کرے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے آسمانی نشان کے ساتھ غالب کیا ہے اور مذہب