برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxx of 502

برکاتُ الدُّعا — Page xxx

اختیار کرنے سے اگر انکار کرے تو واجب ہو گا کہ اپنی نصف جائداد اس سچے مذہب کی امداد کی غرض سے فریق غالب کے حوالہ کردے۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۴۸) اور فرمایا ’’اگر ایک سال کے عرصہ میں دونوں طرف سے کوئی نشان ظاہر نہ ہو یا دونوں طرف سے ظاہر ہو تو پھر کیونکر فیصلہ ہو گا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ راقم اس صورت میں بھی اپنے تئیں مغلوب سمجھے گا اور ایسی سزا کے لائق ٹھیرے گا جو بیان ہو چکی ہے چونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوں اور فتح پانے کی بشارت پا چکا ہوں پس اگر کوئی عیسائی صاحب میرے مقابل آسمانی نشان دکھلاویں یا میں ایک سال تک دکھلا نہ سکوں تو میرا باطل پر ہونا کُھل گیا۔۔۔۔میری سچائی کے لئے یہ ضروری ہے کہ میری طرف سے بعد مباہلہ ایک سال کے اندر ضرور نشان ظاہر ہو۔اوراگر نشان ظاہر نہ ہو تو پھر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں اور نہ صرف وہی سزا بلکہ موت کی سزا کے لائق ہوں۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۴۹) ’’آپؑ نے نشان نمائی اور مباہلہ کے متعلق مباحثہ کے دوران میں بار بار فریق مقابل کو توجہ دلائی لیکن اُن میں سے کوئی اس روحانی مقابلہ کے لئے آمادہ نہ ہوا۔اور عبداﷲ آتھم نے تو اپنے ایک خط میں صاف لکھ دیا۔’’ہم اس امر کے قائل نہیں ہیں کہ تعلیماتِ قدیم کے لئے معجزہ جدید کی کچھ بھی ضرورت ہے اس لئے ہم معجزہ کے لئے نہ کچھ حاجت اور نہ استطاعت اپنے اندر دیکھتے ہیں۔۔۔بہرکیف اگر جناب کسی معجزہ کے دکھلانے پر آمادہ ہیں تو ہم اس کے دیکھنے سے آنکھیں بند نہ کریں گے اور جس قدر اِصلاح اپنی غلطی کی آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں اس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۵۲) حضورؑ نے نشان دیکھنے کے بعد بلاتوقف مسلمان ہو جانے کی جو شرط لگائی تھی مسٹر عبداﷲ آتھم نے اپنے خط مؤرخہ ۹؍ مئی ۱۸۹۳ء میں اِن الفاظ میں منظور کر لی کہ ’’کہ اگر جناب یا اور کوئی صاحب کسی صورت سے بھی یعنی بہ تحدّی معجزہ یا دلیل قاطع عقلی تعلیماتِ قرآنی کو ممکن اور موافق صفاتِ اقدس ربّانی کے ثابت کر سکیں تو