برکاتُ الدُّعا — Page xxviii
ہوں کہ اب وہ زور دار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا۔اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا۔اور اپنی طرف کھینچ لائے گا۔اور فرمایا:۔’’آپ جانتے ہیں کہ جنڈیالہ میں کوئی مشہور اور نا می فاضل نہیں اور یہ آپ کی شان سے بھی بعید ہو گا کہ آپ عوام سے الجھتے پھریں اور اس عاجز کا حال آپ پر مخفی نہیں کہ آپ صاحبوں کے مقابلہ کے لئے۔۔۔پورے دس ۱۰سال سے میدان میں کھڑا ہوں۔جنڈیالہ میں میری دانست میں ایک بھی نہیں جو میدان کا سپاہی تصوّر کیا جائے۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۶۵) اور آپؑ نے یہ بھی واضح کر دیا۔چاہیئے کہ یہ بحث صرف زمین تک محدود نہ رہے بلکہ آسمان بھی اُس کے ساتھ شامل ہو اور مقابلہ صرف اس بات میں ہو کہ روحانی زندگی اور آسمانی قبولیت اور روشن ضمیری کس مذہب میں ہے اور میں اور میرا مقابل اپنی اپنی کتاب کی تاثیریں اپنے اپنے نفس میں ثابت کریں۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۶۶) آپؑ کے سفیروں کا وفد اس خط کو لے کر امرتسر پہنچا اور ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک سے اُن کی گفتگو ہوئی اور شرائط مناظرہ طے ہو گئیں۔تب ۲۴؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو ڈاکٹر کلارک نے آپ کی خدمت میں لکھا کہ ’’جناب نے جو مسلمانوں کی طرف سے مجھے مقابلہ کے لئے دعوت کی ہے اس کو میں بخوشی قبول کرتا ہوں آپ کی سفارت نے آپ کی طرف سے مباحثہ اور شرائط ضروریہ کا فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔اطلاع بخشیں کہ آپ اِن شرائط کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۶۶،۶۷) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ۲۵؍ اپریل ۱۸۹۳ء کو پادری ڈاکٹر کلارک کو جواباً لکھا کہ ’’مَیں اُن تمام شرائط کو منظور کرتا ہوں جن پر آپ کے اور میرے دوستوں کے دستخط ہو چکے ہیں۔‘‘ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ۶۹) منظوری دیتے ہوئے آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ اس مباحثہ کو دونوں مذہبوں میں فیصلہ کُن بنانے کے لئے یہ بھی ہونا ضروری ہے کہ چھ دن کے مباحثہ کے بعد ساتویں دن ایک روحانی مقابلہ بصورت مباہلہ کیا