ایّام الصّلح — Page 421
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۲۱ اتمام اصلح کہ جیسا کہ آنحضرت جامع الکلم اور فصیح اور بلیغ تھے اور آپ کا کلام تمام کلاموں پر فائق تھا خصوصاً قرآن شریف تو ایک بے مثل معجزہ تھا ایسا ہی مہدی آخر الزمان بھی فصاحت بلاغت سے حصہ پاوے سو اس ضرورت کے لئے اس عاجز کو بلاغت محمد یہ میں سے حصہ دیا گیا۔ اور یہ امر تو ایسا ضروری تھا کہ اگر یہ نہ دیا جاتا تو اس حالت میں اعتراض ہو سکتا تھا کہ باوجود دعویٰ مہدویت کے جو نبوت محمدیہ کاظل ہے کیوں بلاغت محمدیہ میں سے حصہ نہیں دیا گیا نہ اس صورت میں اعتراض کرنا کہ جبکہ خدا تعالیٰ کے فضل نے اس بلاغت کاملہ اور فصاحت تامہ سے حصہ دے دیا۔ اور یہ خیال بھی سخت غلطی اور گستاخی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام معمولی انسانوں کی طرح تھا کیونکہ اگر چہ قرآن شریف اعلی درجہ کا معجزہ ہے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام بھی دوسرے انسانوں پر صد با طرح فوقیت رکھتا اور ایک قسم کا معجزہ تھا۔ اور آنحضرت صلی اللہ ۱۷۳ علیہ وسلم کو بلاغت اور کلم جامعہ عطا کئے گئے تھے اور بلاشبہ نسبتی طور پر آنجناب کا معمولی کلام بھی معجزہ کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ قولہ ۔ براہین احمدیہ کا بقیہ نہیں چھاپتے۔ اقول ۔ اس توقف کو بطور اعتراض پیش کرنا محض لغو ہے۔ قرآن شریف بھی باوجود کلام الہی ہونے سے تئیس برس میں نازل ہوا۔ پھر اگر خدا تعالیٰ کی حکمت نے بعض مصالح کی غرض سے براہین کی تکمیل میں توقف ڈال دی تو اس میں کونسا حرج ہوا۔ اور اگر یہ خیال ہے کہ بطور پیشگی خریداروں سے روپیہ لیا گیا تھا تو ایسا خیال کرنا بھی حمق اور نا واقعی کے باعث ہوگا کیونکہ اکثر براہین احمدیہ کا حصہ مفت تقسیم کیا گیا ہے اور بعض سے پانچ روپیہ اور بعض سے آٹھ آنہ تک قیمت لی گئی ہے۔ اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جن سے دس روپے لئے گئے ہوں ۔ اور جن سے پچیس روپے لئے گئے وہ صرف چند آدمی ہیں ۔ پھر باوجود اس قیمت کے جو ان حصص براہین احمدیہ کے مقابل پر جو منطبع ہو کر خریداروں کو دیئے گئے ہیں کچھ بہت نہیں ہے بلکہ عین موزوں ہے اعتراض کرنا سراسر کمینگی اور سفاہت ہے لیکن پھر بھی ہم نے بعض جاہلوں کے ناحق کے شور وغوغا کا