ایّام الصّلح — Page 404
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۰۴ اتمام الصلح نہیں ملے گی۔ (۱) پہلی دنیوی برکات دیکھنا چاہیے کہ بنی آدم کے لئے کس قدر ان کی اقامت اور سفر اور صحت اور بیماری اور خوراک اور پوشاک کے لئے سہولتیں پیدا ہوگئی ہیں اور کس قدرا من حاصل ہو گیا ہے۔ کیا ہمارے وہ بزرگ جو اس زمانہ سے دو سو برس پہلے فوت ہو گئے انہوں نے اس قسم کے آرام پائے تھے؟ (۲) دوسری برکات رُوحانی امور کے متعلق ہیں۔ سود یکھنا چاہیے کہ جس قدر اس زمانہ میں ہزار ہا کتا بیں چھپ کر شائع ہوئیں۔ ہزار ہا اسرار علم دین کھل گئے ۔ قرآنی معارف اور حقائق ظاہر ہوئے۔ کیا ان باتوں کا پہلے نشان تھا؟ اور یہ دونوں قسم کی برکتیں امام موعود کی نسبت حدیثوں میں منسوب کی گئی ہیں کیونکہ ان تمام برکات کا در حقیقت فاعل خدا ہے۔ اور خدا نے صرف امام کے زمانے کو متبرک ظاہر کرنے کے لئے یہ برکتیں ظاہر کیں۔ یہ برکتیں ایک تو وہ ہیں (۱۵۷) جو خاص امام موعود کے ذریعے سے ظاہر ہوئیں اور ہو رہی ہیں اور دوسری وہ جو اس کے زمانے میں ظاہر ہوئیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ دونوں قسم کی برکتیں ایک ہی سر چشمہ سے ہیں۔ اب ہر ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ یہ برکتیں جو دنیا میں ظاہر ہو رہی ہیں دو رنگ رکھتی ہیں ایک وہ رنگ ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے معجزات سے مشابہ ہے کیونکہ اُن کے اکثر معجزات دنیوی برکات کے رنگ میں تھے ۔ دوسرا رنگ ان برکتوں کا وہ ہے جو ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات روحانیہ سے مشابہ ہے کیونکہ آپ کا کام اسرار اور چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہمت اور توجہ دنیوی برکات کی طرف زیادہ مصروف تھی اس لئے اُن کی اُمت میں یہ اثر ہوا کہ رفتہ رفتہ دین سے تو وہ بلکلی بے بہرہ ہو گئے مگر دنیا کی برکتیں جیسا کہ علم طبعی علم ڈاکٹری علم تجارت علم فلاحت علم جہاز رانی اور ریل رانی وغیرہ اس میں بے نظیر ہو گئے ۔ برخلاف اس کے دینی عمیق اسرار مسلمانوں کے حصے میں آئے اور دنیا میں پیچھے رہے۔ روحانی برکات کی یادگار کے لئے قرآن شریف بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دائی معجزہ دیا گیا جو بموجب منطوق آيت فيهَا كُتُبْ قَيْمَةٌ تمام دینی معارف کا جامع ہے۔ منہ البينة :