ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 550

ایّام الصّلح — Page 397

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۷ اتمام الصلح مثلا لوگوں کی بیماریوں کا اُن کی توجہ سے دُور ہونا یا اُن کی تنگیوں اور تکالیف کا حضرت مسیح کی ہمت سے رفع ہو جانا یا اُن کی دعاؤں سے ان کا دشمنوں پر فتح پانا یا کھانے پینے کی چیزوں میں برکت پیدا ہونا ۔ مگر وہ برکتیں اُن علمی اور روحانی اور غیر فانی اور ایمانی برکتوں کے مقابل پر کچھ چیز نہیں تھیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کو ملیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اُن روحانی اور غیر فانی اور ایمانی برکتوں میں سے حضرت مسیح نے اپنی امت کو کوئی حصہ نہیں دیا اور نہ یہ کہتے ہیں کہ ان جسمانی برکتوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو محروم رکھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح میں جسمانی فانی برکتوں کی کثرت تھی اور روحانی اور ایمانی اور دائمی برکتیں دنیا کو اُن سے بہت ہی کم ملیں۔ اسی وجہ سے خدا تعالی کو بھی کہنا پڑا کہ کیا اپنی اُمت کو تو نے ہی شرک سکھایا ہے۔ ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روحانی دائی برکتیں بکثرت دی گئیں اور جسمانی برکتیں یہ نسبت روحانی کے تھوڑی تھیں کیونکہ روحانی گویا بے شمار تھیں۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ پیشگوئیوں میں آنے والے مسیح کی نسبت یہ لکھا ہوا تھا کہ وہ دونوں قسم کی برکتیں جسمانی اور روحانی پائے گا۔ چنانچہ اشارہ کیا گیا تھا کہ روحانی اور غیر فانی برکتیں جو ہدایت کا ملہ اور قوت ایمانی کے عطا کرنے اور معارف اور لطائف اور اسرار الہیہ اور علوم حکمیہ کے سکھانے سے مراد ہے اُن کے پانے کے لحاظ سے وہ مہدی کہلائے گا اور وہ برکتیں چشمہ فیوض محمد یہ سے اُس کو ملیں گی کیونکہ خالص مہدویت بلا آمیزش وسائل ارضیہ صفت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس لئے اس لحاظ سے ☆ ا نوٹ۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ علم دین یا محض علم جو علوم دین کی کنجی ہے دوسرے نبیوں نے انسانوں کے ذریعہ سے بھی حاصل کئے ہیں چنانچہ حضرت موسیٰ زیر تربیت فرعون مصر میں مکتب میں بیٹھے اور علوم مروجہ پڑھے اور ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام نے توریت کو تمام کمال ایک یہودی اُستاد سے پڑھا تھا لیکن یہ خالص مہدویت کہ کسی انسان سے ایک حرف بھی نہ پڑھا اور آخر خدا نے ہی اگر کہا۔ یہ بجز ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نبی کو نصیب نہ ہوئی اسی لئے آپ کتب سابقہ اور قرآن میں نبی امی کہلائے۔ منہ