ایّام الصّلح — Page 393
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۳ ايام الصلح نہیں لیکن ختم نبوت کا بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا یہ شرارت ہے نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث لا نَبِی بَعْدِی میں بھی نفی عام ہے۔ پس یہ کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمدا چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے کیونکہ جس میں شانِ نبوت باقی ہے اُس کی وحی بلا شبہ نبوت کی وحی ہوگی ۔ افسوس یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ مسلم اور بخاری میں فقرہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور أَمَّكُمْ مِنْكُمْ صاف موجود ہے۔ یہ جواب سوال مقدر کا ہے یعنی جبکہ ۱۴۷ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں مسیح ابن مریم حکم عدل ہو کر آئے گا تو بعض لوگوں کو یہ وسوسہ دامنگیر ہو سکتا تھا کہ پھر ختم نبوت کیونکر رہے گا۔ اس کے جواب میں یہ ارشاد ہوا کہ وہ تم میں سے ایک امتی ہوگا اور بروز کے طور پر مسیح بھی کہلائے گا۔ چنانچہ مسیح کے مقابل پر جو مہدی کا آنا لکھا ہے اس میں بھی یہ اشارات موجود ہیں کہ مہدی بروز کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کا مورد ہو گا ۔ اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا خلق میرے خلق کی طرح ہوگا اور یہ حدیث کہ لَا مَهْدِيَّ الا عیسی ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف کرتی ہے کہ وہ آنے والا ذوالبروزین ہو گا اور دونوں شانیں مہدویت اور مسیحیت کی اُس میں جمع ہوں گی یعنی اس وجہ سے کہ اُس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت اثر کرے گی مہدی کہلائے گا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی مہدی تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے نوٹ: اگر حدیث میں یہ مقصود ہوتا کہ عیسی باوجود نبی ہونے کے پھر امتی بن جائے گا تو حدیث کے لفظ یوں ہونے چاہیے تھے ۔ اِمَامُكُمُ الَّذِي يَصِيرُ مِنْ أُمَّتِي بَعْدَ نُبُوَّتِهِ یعنی ☆ تمہارا امام جو نبوت کے بعد میری اُمت میں سے ہو جائے گا۔ منہ