ایّام الصّلح — Page 387
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۷ ایام الصلح قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبہت ترقی کا لفظ آیا ہے جیسا کہ آیت وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَو توفيلك میں ہے تو یہی توفی کا لفظ حضرت عیسی کی نسبت دو مرتبہ آ گیا ہے بلکہ اگر بچی گواہی دی جائے تو حضرت عیسی علیہ السلام کا وفات پا نا تمام نبیوں کی وفات سے زیادہ تر ثابت ہے۔ بہت سے نبیوں کی وفات کا خدا تعالیٰ نے ذکر بھی نہیں کیا۔ لیکن حضرت مسیح کی وفات کا بار بار قرآن شریف میں ذکر کیا ہے جیسا کہ اس آیت میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات کی طرف ہی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءِ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ کے یعنی جو لوگ بغیر اللہ کے معبود بنائے جاتے ہیں اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ وہ آپ (۱۴۲) ہی پیدا شدہ ہیں اور وہ تمام لوگ مر چکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ اگر کوئی عیسائی اس جگہ تم پر اعتراض کرے کہ یہ بیان قرآن کا بموجب معتقدات تمہارے خلاف واقعہ ہے کیونکہ قرآن مسیح ابن مریم کو مِنْ دُون اللہ سمجھتا ہے اور كل مِن دُونِ الله معبود کو بغیر کسی استثناء کے مردہ قرار دیتا ہے اور تم مسیح ابن مریم کو زندہ قرار دیتے ہو حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ کوئی مِن دُونِ الله معبود زندہ نہیں ہے۔ پس اگر تم سچے ہو تو قرآن حق پر نہیں ہے اور اگر قرآن حق پر ہے تو تم دعوی حیات مسیح میں بچے نہیں تو اس اعتراض کا کیا جواب ہے؟ اور ظاہر ہے کہ قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ تمام معبود غیر اللہ أَمْوَاتٌ غَيْرُ احیاء ہیں اس کا اول مصداق حضرت عیسی ہی ہیں کیونکہ زمین پر سب انسانوں سے زیادہ وہی پوجے گئے ہیں اور تمام انسانی پرستاروں کی نسبت ان کا گروہ کثرت میں قوت میں شوکت میں سرگرمی میں دعوت شرک میں آگے بڑھا ہوا ہے ۔ دیکھو کہ عیسی پرست دنیا میں چالیس کروڑ ہیں اور اس قدر جماعت انسان پرستوں کی کوئی اور نہیں ہے سو اگر قرآن نے اُن کو اس آیت سے مستثنیٰ رکھا ہے تو نعوذ باللہ اس سے پایا جاتا ہے کہ مُنزلِ قرآن کے نزدیک وہ غیر اللہ نہیں ہے اور اگر مستقلی نہیں ہے تو يونس : ۴۷ النحل: ۲۲۲۱