ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 550

ایّام الصّلح — Page 386

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۶ اتمام الصلح جوان یا بوڑھا کر کے مارنے کا ذکر آچکا ہے تو اس کے ساتھ اس عادت اللہ کا بیان نہ کرنا کہ کسی کو آسمان پر آباد بھی کیا جاتا ہے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی کو مع جسم آسمان پر آباد کر دینا خدا تعالی کی سنتوں میں سے نہیں ہے۔ اور دین کا اکمال جو آیت الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُم سے سمجھا جاتا ہے اس بات کو چاہتا ہے کہ اس قسم کے تمام اسرار جو خدا تعالیٰ کی سنت میں داخل ہیں قرآن شریف میں بیان کئے جاتے اور جب کہ آسمان پر مع جسم چڑھانا اور وہاں صد ہا برس تک آباد رکھنا قرآن شریف میں عادت اللہ کے طور پر بیان نہیں کیا گیا اور صرف جوان کرنا اور پھر بڑھا کرنا اور مارنا بیان کیا گیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ دوسرا امر خدا تعالیٰ کی عادت میں داخل نہیں ہے۔ ایسا ہی آیت وَمَنْ تُعَمِّرُهُ نُنَكِّسُهُ فِي الْخَلْقِ سے حضرت عیسی کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ جب کہ ہمو جب تصریح اس آیت کے ایک شخص جو نوے یا سو برس تک پہنچ گیا ہو اس کی پیدائش اس قدر اُلٹا دی جاتی ہے کہ تمام حواس ظاہر یہ و باطنیہ قریب الفقدان یا مفقود ہو جاتے ہیں تو پھر وہ جو دو ہزار برس سے اب تک جیتا ہے اُس کے حواس کا کیا حال ہوگا اور ایسی حالت میں وہ اگر زندہ بھی ہوا تو کونسی خدمت دے گا۔ اس آیت میں کوئی استثنا موجود نہیں ہے اور ہمیں نہیں چاہیے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے بیان کے آپ ہی ایک استثناء فرض کر لیں۔ ہاں اگر نص صریح سے ثابت ہو کہ حضرت عیسی علیہ السلام باوجود جسمانی حیات کے جسمانی تحلیلوں اور تنزل حالات اور فقدان قوی سے منزہ ہیں تو وہ نص پیش کریں۔ اور یونہی کہہ دینا کہ خدا ہر ایک بات پر قادر ہے ایک فضول گوئی ہے اور اگر بغیر سند صریح کے اپنا خیال ہی بطور دلیل مستعمل ہو سکتا ہے تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بعد وفات پھر زندہ ہو کر مع جسم عنصری آسمان پر اٹھائے گئے ہیں اور پیرانہ سالی کے لوازم سے مستثنیٰ ہیں اور حضرت عیسیٰ سے بدرجہا بڑھ کر تمام جسمانی قوی اور لوازم کا ملہ حیات اپنی ذات میں جمع رکھتے ہیں اور آخری زمانہ میں پھر نازل ہوں گے۔ اب بتلاؤ کہ ہمارے اس دعوئی اور تمہارے دعوے میں کیا فرق ہے۔ اگر المآئدة : یس : ۶۹