ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 550

ایّام الصّلح — Page 383

روحانی خزائن جلد ۱۴ امام الصلح جس کو صوفیوں میں بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے جو حال میں مطبع اسلامیہ لاہور میں ہمارے مخالفوں کے اہتمام سے ہی چھپی ہے یہ عبارت لکھی ہے:۔ روحانیت گمل گا ہے بر ارباب ریاضت چناں تصرف می فرماید که فاعل افعال شان می گردد و این مرتبه را صوفیه بروز می گویند و در شرح فصوص الحکم می نویسد یعنی بغرض بیان کردن نظیر بروز می گوید که محمد بود که بصورت آدم در مبدء ظهور نمود یعنی بطور بروز در ابتدائے عالم روحانیت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم در آدم متجلی شد و هم او باشد که در آخر بصورت خاتم ظاهر گردد یعنی در خاتم الولایت که مهدی است نیز روحانیت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم بروز و ظهور خواهد کرد و تصرفها خواهد نمود و این را بروزات کمل گویند نه تناسخ و بعض برانند که روح عیسی در مهدی بروز کند - و نزول عبارت از ہمیں بروز است مطابق ایس حدیث کہ لا مهدی الاعیسی ابن مریم اور یہ بروز کا عقیدہ کچھ نیا نہیں ہے بلکہ خدا تعالی کی پہلی کتابوں میں بھی اس عقیدہ کا ذکر پایا جاتا ہے۔ چنانچہ ملا کی نبی کی کتاب میں جو ایلیا کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کو یہود اپنی غلطی سے یہی سمجھتے رہے کہ خود ایلیا نبی ہی آسمان پر سے نازل ہوگا آخر وہ بھی بروز ہی نکلا اور ایلیا کی جگہ آنے والا نبی نبی ثابت ہوا۔ اور یہود کا بیا اجماعی عقیدہ کہ خود ایلیا ہی دوبارہ دنیا میں آ جائے گا جھوٹا پایا گیا۔ ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی بروز کا عقیدہ تھا اور پھر غلطیوں کے ملنے سے اُسی عقیدہ کو تناسخ سمجھا گیا۔ قولہ توفّی کے معنے بھرنے کے ہیں۔ اقول ۔ یہ بیہودہ خیالات ہیں۔ بخاری میں عبداللہ بن عباس کے قول سے ثابت