ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 550

ایّام الصّلح — Page 360

روحانی خزائن جلد ۱۴ امام اصلح ہاں یہ ہم کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں ڈاکٹروں اور دوسرے افسروں کو جو ان خدمات پر مقرر ہوں نہایت درجہ کے اخلاق سے کام لینا چاہیے اور ایسی حکمت عملی ہو کہ پردہ داری وغیرہ امور کے بارے میں کوئی شکایت بھی نہ ہو اور ہدایتوں پر عمل بھی ہو جائے ۔ اور مناسب ہوگا کہ بجائے اس کے کہ حکومت اور رُعب سے کام لیا جائے ہدایتوں کے فوائد دلوں میں جمائے جائیں تا بدگمانیاں پیدا نہ ہوں اور مناسب ہے کہ بعض خوش اخلاق ڈاکٹر واعظوں کی طرح مرض پھیلنے سے پہلے دیہات اور شہروں کا دورہ کر کے گورنمنٹ کے مشفقانہ منشاء کو دلوں میں جما دیں تا اس نازک امر میں کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔ واضح رہے کہ اس مرض کی اصل حقیقت ابھی تک کامل طور پر معلوم نہیں ہوئی اس لئے اس کی تدابیر اور معالجات میں بھی اب تک کوئی کامیابی معلوم نہیں ہوئی۔ مجھے ایک روحانی طریق سے معلوم ہوا ہے کہ اس مرض اور مرض خارش کا مادہ ایک ہی ہے ۔ اور میں گمان کرتا ہوں کہ غالبا یہ بات صحیح ہوگی کیونکہ مرض جوب یعنی خارش میں ایسی دوائیں مفید پڑتی ہیں جن میں کچھ پارہ کا جزو ہو یا گندھک کی آمیزش ہو۔ اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس قسم کی دوائیں اس مرض کے لئے بھی مفید ہو سکیں۔ اور جبکہ دونوں مرضوں کا مادہ ایک ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ خارش کے پیدا ہونے سے اس مرض میں کمی پیدا ہو جائے۔ یہ روحانی قواعد کا ایک راز ہے جس سے میں نے فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر تجربہ کرنے والے اس امر کی طرف توجہ کریں اور ٹیکا لگانے والوں کی طرح بطور حفظ ما تقدم ایسے ملک کے لوگوں میں جو خطرہ طاعون میں ہوں خارش کی مرض پھیلا دیں تو میرے گمان میں ہے کہ وہ مادہ اس راہ سے تحلیل پا جائے اور طاعون سے امن رہے ۔ مگر حکومت اور ڈاکٹروں کی توجہ بھی (۱۳۱) خدا تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے۔ میں نے محض ہمدردی کی راہ سے اس امر کولکھ دیا ہے کیونکہ میرے دل میں یہ خیال ایسے زور کے ساتھ پیدا ہوا جس کو میں روک نہیں سکا۔ اور ایک ضروری امر ہے جس کے لکھنے پر میرے جوش ہمدردی نے مجھے آمادہ کیا ہے۔ اور