ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 550

ایّام الصّلح — Page 361

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۶۱ اتمام الصلح میں خوب جانتا ہوں کہ جو لوگ رُوحانیت سے بے بہرہ ہیں اُس کو ہنسی اور ٹھٹھے سے دیکھیں گے ۔ مگر میرا فرض ہے کہ میں اس کو نوع انسان کی ہمدردی کے لئے ظاہر کروں اور وہ یہ ہے کہ آج جو کچھ فروری ۱۸۹۸ ء روز یکشنبہ ہے میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالی کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے ۔ میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو میں نے دیکھا۔ اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا اور وہ یہ ہے۔ ان الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بانفسهم۔ انه اوى القرية - يعنی جب تک دلوں کی وباء معصیت دُور نہ ہو تب تک ظاہری وبا بھی دور نہیں ہوگی اور در حقیقت دیکھا جاتا ہے کہ ملک میں بدکاری کثرت سے پھیل گئی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہو کر ہوا و ہوس کا ایک طوفان برپا ہو رہا ہے۔ اکثر دلوں سے اللہ جل شانہ کا خوف اُٹھ گیا ہے اور وباؤں کو ایک معمولی تکلیف سمجھا گیا ہے جو انسانی تدبیروں سے دُور ہو سکتی ہے۔ ہر ایک قسم کے گناہ بڑی دلیری سے ہورہے ہیں ۔ اور قوموں کا ہم ذکر نہیں کرتے وہ لوگ جو مسلمان کہلاتے ہیں ان میں سے جو غریب اور مفلس ہیں اکثر اُن میں سے چوری اور خیانت اور حرام خوری میں نہایت دلیر پائے جاتے ہیں ۔ جھوٹ بہت بولتے ہیں اور کئی قسم کے خسیس اور مکروہ حرکات اُن سے سرزد ہوتے ہیں اور وحشیوں کی طرح حمدیه فقره که انه اوی القریة ۔ اب تک اس کے معنے میرے پر نہیں کھلے اور رویا عام وباء پر دلالت کرتی ہے مگر بطور تقدیر معلق ۔ منہ