ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 550

ایّام الصّلح — Page 358

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۸ اتمام الصلح بسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قُل مَا يَعْبُوا بِكُمْ رَبِّ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ طاعون اس مرض نے جس قدر بمبئی اور دوسرے شہروں اور دیہات پر حملے کئے اور کر رہی ہے ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ دو سال کے عرصے میں ہزاروں بچے اس مرض سے یتیم ہو گئے اور ہزار ہا گھر ویران ہو گئے ۔ دوست اپنے دوستوں سے اور عزیز اپنے عزیزوں سے ہمیشہ کے لئے جدا کئے گئے اور ابھی انتہا نہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ نے کمال ہمدردی سے تدبیریں کیں اور اپنی رعایا پر نظر شفقت کر کے لکھوکھا روپیہ کا خرچ اپنے ذمہ ڈال لیا اور قواعد طبیہ کے لحاظ سے جہاں تک ممکن تھا ہدایتیں شائع کیں ۔ مگر اس مرض مہلک سے اب تک بکلی امن حاصل نہیں ہوا بلکہ بمبئی میں ترقی پر ہے اور کچھ شک نہیں کہ ملک پنجاب بھی خطرہ میں ہے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ اس وقت اپنی اپنی سمجھ اور بصیرت کے موافق نوع انسان کی ہمدردی میں مشغول ہو۔ کیونکہ وہ شخص انسان نہیں جس میں ہمدردی کا مادہ نہ ہو۔ اور یہ امر بھی نہایت ضروری ہے کہ گورنمنٹ کی تدبیروں اور ہدایتوں کو بدگمانی کی نظر سے نہ دیکھا جائے ۔غور سے معلوم ہوگا کہ اس بارے میں گورنمنٹ کی تمام ہدایتیں نہایت احسن تدبیر پرمبنی ہیں کو ممکن ہے کہ آئندہ اس سے بھی بہتر تدابیر پیدا ہوں ۔ مگرا بھی نہ ہمارے ہاتھ میں نه گورنمنٹ کے ہاتھ میں ڈاکٹری اصول کے لحاظ سے کوئی ایسی تدبیر ہے کہ جو شائع کردہ تدابیر سے عمدہ اور بہتر ہو ۔ بعض اخبار والوں نے گورنمنٹ کی تدابیر پر بہت کچھ جرح کیا مگر سوال تو یہ ہے کہ ان تدابیر سے بہتر کونسی تدبیر پیش کی ۔ بیشک الفرقان: ۷۸