ایّام الصّلح — Page 356
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۶ امام الصلح ہرایک پہلو سے ظاہر کر دیتا ہے اور بعض دلائل کو بعض کے گواہ بنا دیتا ہے ۔ اور نہیں چھوڑتا جب تک کہ خبیث کو طیب سے اور طیب کو خبیث سے الگ کر کے نہ دکھلاوے۔سواسی کی حمایت ۱۸ سے یہ ایک کرشمہ قدرت ہے کہ مرہم عیسی کا نسخہ تمام کتابوں میں نکل آیا۔ اور ثابت ہو گیا کہ دنیا کے قریبا تمام طبیب مرہم عیسی کا نسخہ اپنی کتابوں میں لکھتے آئے ہیں اور یہ بھی تحریر کرتے آئے ہیں کہ یہ مرہم جو چوٹوں اور زخموں کے لئے نہایت درجہ فائدہ مند ہے یہ حضرت عیسی کے لئے بنائی گئی تھی ۔ طبیبوں کی یہ تحقیقات ایک ایسے درجہ کی تحقیقات ہے جس سے تمام اسرار الہی منکشف ہو جاتے ہیں اور اصل حقیقت کھلتی ہے اور صاف طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ حضرت عیسی کے سوانح میں اصل بات صرف اس قدر تھی کہ وہ موافق وعدہ خدا تعالیٰ کے صلیبی قتل سے نجات دیئے گئے اور پھر اس مرہم کے ساتھ چالیس دن تک اُن کے زخموں کا علاج ہوتا رہا جیسا کہ انجیلوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مقام میں جہاں صلیب پر چڑھائے گئے تھے واقعہ صلیب کے بعد چالیس دن تک پوشیدہ طور پر رہے۔ پھر جیسا کہ اُن کو حکم تھا ان ملکوں کی طرف تشریف لے گئے جہاں جہاں یہودی اپنے وطن سے متفرق ہو کر آباد تھے ۔ چنانچہ اسی نیت سے وہ کشمیر میں پہنچے اور کشمیر میں ایک سو بیس برس کی عمر میں وفات پائی اور شہر سری نگر محلہ خانیار میں اُن کا مزار ہے اور اس جگہ شہزادہ یو ز آسف نبی کر کے مشہور ہیں۔ اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ انیس سو برس اس نبی کے فوت ہونے پر گذر گئے ہیں کیو حال میں جو ثبت سے ایک انجیل کسی غار سے برآمد ہوئی ہے جس کو ایک روسی فاضل نے کمال جد و جہد سے چھپوا کر شائع کر دیا ہے جس کے شائع کرنے سے پادری صاحبان بہت ناراض پائے جاتے ہیں۔ یہ واقعہ بھی کشمیر کی قبر کے واقعہ پر ایک گواہ ہے۔ یہ انجیل پادریوں کی انجیلوں سے مضامین میں بہت مختلف اور موجودہ عقیدہ کے بہت بر خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملک میں اس کو شائع ہونے سے روکا گیا ہے مگر ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ترجمہ کر کے اس کو شائع کر دیں۔ منہ 1900