ایّام الصّلح — Page 352
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۵۲ اتمام اصلح بھی پختہ نظن سے اس بات کا دھڑکا تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا۔ چنانچہ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ وَمَا قَتَلُوهُ يَقينا، یعنی یہو قتل مسیح کے بارے میں ظن میں رہے اور یقینی طور پر انہوں نے نہیں سمجھا کہ در حقیقت ہم نے قتل کر دیا۔ چھٹی دلیل یہ ہے کہ جب یسوع کے پہلو میں ایک خفیف سا چھید دیا گیا تو اُس میں سے خون نکلا اور خون بہتا ہوا نظر آیا اور ممکن نہیں کہ مُردہ میں خون بہتا ہوا نظر آئے ۔ ساتویں دلیل یہ ہے کہ یسوع کی ہڈیاں توڑی نہ گئیں جو مصلوبوں کے مارنے کے لئے ایک ضروری فعل تھا۔ کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ تین دن صلیب پر رکھ کر پھر بھی بعض آدمی زندہ رہ جاتے تھے پھر کیونکر ایسا شخص جو صرف چند منٹ صلیب پر رہا اور ہڈیاں نہ توڑی گئیں وہ مر گیا ؟ آٹھویں دلیل یہ ہے کہ انجیل سے ثابت ہے کہ یسوع صلیب سے نجات پا کر پھر اپنے حواریوں کو ملا اور اُن کو اپنے زخم (۱۵) دکھلائے اور ممکن نہیں کہ یہ زخم اُس حالت میں موجود رہ سکتے کہ جب کہ یسوع مرنے کے بعد ایک تازہ اور نیا جلالی جسم پاتا۔ نویں دلیل حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر یہی نسخہ مرہم میسی ہے۔ کیونکہ ہر گز خیال نہیں ہوسکتا کہ مسلمان طبیبوں اور عیسائی ڈاکٹروں اور رومی مجوسی اور یہودی طبیبوں نے باہم سازش کر کے یہ بے بنیاد قصہ بنا لیا ہو۔ بلکہ یہ نسخہ طبابت کی صد ہا کتابوں میں لکھا ہوا اب تک موجود ہے۔ ایک ادنی استعداد کا آدمی بھی قرابادین قادری میں اس نسخہ کو امراض الجلد میں لکھا ہوا پائے گا۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مذہبی رنگ کی تحریروں میں کئی قسم کی کمی زیادتی ممکن ہے کیونکہ تعصبات کی اکثر آمیزش ہو جاتی ہے لیکن جو کتا ہیں علمی رنگ میں لکھی گئیں ان میں نہایت تحقیق اور تدقیق سے کام لیا جاتا ہے۔ لہذا یہ نسخہ مرہم عیسی اصل حقیقت کے دریافت کے لئے نہایت اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ خیالات کہ گویا حضرت عیسی آسمان پر چلے گئے تھے کیسے اور کس پایہ کے ہیں۔ اور خود ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کے جسم کو آسمان پر اُٹھانے کے لئے کوئی بھی ضرورت نہیں تھی ۔ خدا تعالیٰ حکیم ہے عبث کام کبھی نہیں کرتا۔ جبکہ اُس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غار ثور میں ا النساء : ۱۵۸