ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 550

ایّام الصّلح — Page 340

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴۰ اتمام الصلح تمہارا حامی ہوگا اور ایسے اسباب پیدا کر دے گا جن سے یہ زہریلا مادہ دُور ہو جائے ۔ اور اگر دنیا میں مست ہو کر خدا تعالیٰ کی پروا نہیں رکھو گے اور گناہوں سے باز نہیں آؤ گے تو وہ قادر ہے کہ تمہاری تمام تدبیریں بے کار کر دیوے اور ایسی راہ سے تمہیں پکڑے کہ تمہیں معلوم نہ ہو۔ دیکھو یہود میں جب طاعون مصر اور کنعان کی راہ میں پھوٹی تو وہ لوگ اُس وقت جنگل میں تھے اور شہر کی عفونتوں سے بالکل الگ تھے۔ ترنجبین اور بیٹر اُن کی غذا تھی۔ وہ یقین کرتے تھے کہ اب کوئی بلا ہم پر نہیں آئے گی مگر جب انہوں نے نافرمانی شروع کی اور فسق اور فجور میں مبتلا ہوئے تو وہی ترنجبین اور (۱۰۳) بیٹر طاعون کا موجب ہو گئے ۔ یہ کیسا باریک بھید خدا کی حکمتوں کا ہے کہ چونکہ اللہ جل شانہ جانتا تھا کہ یہ قوم عنقریب سرکشی اختیار کرے گی اس لئے اُن کے لئے دن رات کی غذا ترنجبین اور بٹیر مقرر کیا گیا۔ یہ دونوں چیزیں طب کے قواعد کی رُو سے بالخا صیت طاعون پیدا کرتی ہیں اسی وجہ سے طبیب لوگ امراض جلدیہ میں جہاں بشور اور پھوڑوں کی بیماریاں ہوں ترنجبین دینے سے پر ہیز کیا کرتے ہیں۔ بدبخت یہود ایک طرف تو ارتکاب جرائم کا کرتے رہے اور دوسری طرف دن رات بیٹر اور ترنجبین کھا کر طاعون کا مادہ اپنے اندر جمع کر لیا۔ جب اُن کے مواخذہ کا وقت آیا تو ایک طرف تو جرائم انتہا کو پہنچ چکے تھے جو سزا کو چاہتے تھے اور دوسری طرف طاعونی مادہ بٹیر اور ترنجبین کے استعمال سے اس قدر اُن کے اندر جمع ہو گیا تھا کہ اب وہ تقاضا کرتا تھا کہ اُن میں طاعون پھوٹے ۔ سو اس ایک ہی رات میں جب یہودیوں کے لئے آسمان سے سزا کا حکم نازل ہوا ساتھ اس کے مادہ طاعون کو بھی جو طیار بیٹھا تھا یہ حکم آیا کہ ہاں اب نکل اور اس شریر قوم کو ہلاک کر ۔ تب وہ اس جنگل میں کتوں کی طرح مرے۔ فاعتبروايا أُولِى الأبصار میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان لوگوں کا بھی یہی حال ہوگا کہ جو ہر ایک قسم کی زنا کاری اور چوری اور خونریزی اور مال حرام کھانے اور نوع انسان کے دکھ دینے میں درندوں کی طرح دلیری سے قدم رکھتے ہیں نہ خدا تعالیٰ کے حدود اور قوانین سے ڈرتے ہیں اور نہ گورنمنٹ کے مقرر کردہ قانونوں سے اُن کو خوف ہے۔ یہی بات تھی جو میرے پہلے اشتہار میں بطور الہام طاعون کے بارے میں