ایّام الصّلح — Page 336
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۳۶ اتمام اصلح نام کیونکر خدا رکھ سکتا ہے۔ یہ لوگ انسان پرست ہونے کی وجہ سے آسمانی تعلقات سے قطعاً محروم ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کی آسمانی تائید میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ صرف بیہودہ قصے بجائے نشانوں 19 کے پیش کئے جاتے ہیں۔ نہ عقل کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہتے ہیں اور نہ آسمانی نشانوں کے ساتھ ۔ شرک اور مخلوق پرستی کو زمین پر پھیلا رہے ہیں اور پھر قرآن شریف پر اعتراض کرتے ہیں کہ اُس نے انسانوں کو جسمانی طہارت کی طرف کیوں توجہ دلائی۔ یہ نہیں جانتے کہ نبی روحانی باپ ہوتا ہے وہ درجہ بدرجہ ہر ایک نا پاکی سے چھڑانا چاہتا ہے اور ہر ایک خطرہ سے بچانا چاہتا ہے۔ سواول درجہ کی ناپا کی جو انسان کو وحشیانہ حالت میں ڈالتی ہے جسمانی ناپاکی ہے اور اسی سے خطرناک امراض اور مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ سوضرور تھا کہ خدا کی کامل کتاب اپنی تعلیم کا ابتدا اسی سے کرتی سوخدا نے ایسا ہی کیا۔ اوّل جسمانی ناپاکیوں اور دوسری وحشیانہ حالتوں سے چھڑا کر وحشیوں کو انسان بنانا چاہا پھر اخلاق فاضلہ اور طہارت باطنی کے احکام سکھلا کر انسانوں کو مہذب انسان بنایا۔ اور پھر محبت اور فنافی اللہ کے باریک دقائق تک پہنچا کر مہذب انسانوں کو باخدا انسان بنا دیا۔ اور پھر یہ سب کچھ کر کے فرمادیا۔ اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا۔ یعنی جان لو کہ خدا نے زمین کو مرنے کے بعد پھر زندہ کیا۔ سوخدا کا کلام حکمت کے طریقوں سے انسان کو ترقی کے منار تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس سے شرم نہیں کرتا کہ انسان کو جو انسانیت سے گرا ہوا ہے ظاہری ناپاکیوں سے بھی چھڑائے جیسا کہ وہ باطنی ناپاکیوں سے چھڑاتا ہے اُس نے اپنی پاک کلام میں انسانوں کو دونوں قسم کی پاکیزگی کی طرف ترغیب دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ المُطَهِّرِينَ یعنی خدا تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور اُن کو بھی دوست رکھتا ہے جو جسمانی طہارت کے پابندرہتے ہیں۔ سو توابین کے لفظ سے خدا تعالیٰ نے باطنی طہارت اور پاکیزگی کی طرف توجہ دلائی اور متطهرین کے لفظ سے ظاہری طہارت اور پاکیزگی کی ترغیب دی۔ اور اس آیت سے یہ مطلب نہیں کہ صرف ایسے شخص کو خدا تعالیٰ دوست رکھتا ہے کہ جو محض ظاہری پاکیزگی کا الحديد : ١٨ ٢ البقرة :٢٢٣