ایّام الصّلح — Page 328
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲۸ اتمام الصلح گرہن لگا تھا۔ اور ایسا ہی سورج کا وہ کسوف یاد کرو جو ٹھیک ٹھیک حدیث کے لفظوں کے موافق اس کے گرہن کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہوا تھا۔ اور پھر دار قطنی کھول کر پڑھو کہ یہ وہ علامت تھی جو مہدی موعود کی سچائی کیلئے ایک نشان قرار دیا گیا تھا یہ سب کچھ خدا تعالی کے وعدوں کے موافق ہو گیا۔ مگر کیا تم نے اس سے کچھ بھی فائدہ اٹھایا ؟ خدا نے تمہیں کھول کر یہ پتہ بھی دیا کہ وہ آنے والا صلیب کے غلبہ کے وقت میں ظاہر ہو گا جب اسلام کے دشمن نبی علیہ السلام کی سخت بے ادبی کرتے ہوں گے اور اُن میں سے گالیاں نکالنے والے تو ہین اور تحقیر اور دشنام دہی اور افترا اور جھوٹ کی نجاست کھاتے ہوں گے ۔ سوتم نے اپنی آنکھوں سے ایسی نجاست کھانے والوں کو دیکھ لیا۔ کیا پادری عماد الدین نے اس نجاست سے ایک بھاری حصہ نہیں لیا ؟ کیا پادری ٹھاکر داس کے دونوں ہاتھ اس نجاست میں آلودہ نہیں؟ کیا صاحب رسالہ امہات المومنین نے اس بد بو کے ذریعہ سے ہزاروں دماغوں کو پریشان نہیں کیا ؟ تو کیا اب تک تو ہین اور تحقیر میں کچھ کسر باقی ہے؟ اور کیا اب تک وہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کہ جو صحیح بخاری میں ہے کہ مسیح موعود کا زمانہ وہ زمانہ ہوگا کہ جب صلیبی مذہب کا غلبہ ہو گا اور جو سچائی کے دشمن ہیں وہ اسلام اور نبی علیہ السلام کو بخش گالیاں دے کر خنزیر کی طرح جھوٹ کی نجاست کھا ئیں گے۔ دیکھو آسمان نے خسوف کسوف کے ساتھ گواہی دی اور تم نے پروانہیں کی ! اور زمین نے غلبہ صلیب اور نجاست خواروں کے نمونہ سے گواہی دی اور تم نے پرواہ نہیں کی!! اور خدا تعالی کے پاک اور بزرگ نبی کی عظیم الشان پیشگوئیاں گواہوں کی طرح کھڑی ہو گئیں اور تم نے ذرہ التفات نہیں کی !!! اگر میں خود دعوی کرتا ہوں تو بے شک مجھے جھوٹا سمجھو۔ لیکن اگر خدا کا پاک نبی اپنی پیشگوئیوں کے ذریعہ سے میری گواہی دیتا ہے اور خود خدا میرے لئے نشان دکھلاتا ہے جلد ہم نے دھوکہ سے بچانے کے لئے بار بار اس بات کا ذکر کر دیا ہے کہ کوئی شخص مسیح موعود کے لفظ سے عام مسلمانوں کا وہ فرضی مسیح خیال نہ کرے جو ان کی نظر میں لڑائیوں کا بانی ہو گا۔ بلکہ یہ خیالات سراسر غلط اور بیہودہ ہیں۔ اور سچ یہ ہے کہ مسیح موعود گزشتہ مسیح کی طرح غربت اور مسکینی کے رنگ میں ظاہر ہوا ہے۔ زمین کی بادشاہت سے اُس کو کچھ غرض نہیں اور اس کے حق میں حدیث صحیح میں یہی ہے کہ بَضَعُ الحرب یعنی وہ نہیں لڑے گا اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔ منہ