ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 329 of 550

ایّام الصّلح — Page 329

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲۹ امام الصلح تو اپنے نفسوں پر ظلم مت کرو۔ یہ مت کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں کسی مسیح وغیرہ کے قبول کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو مجھے قبول کرتا ہے وہ اُسے قبول کرتا ہے جس نے میرے لئے آج سے تیرہ سو برس پہلے لکھا ہے اور میرے وقت اور زمانہ اور میرے کام کے نشان بتلائے ہیں۔ اور جو مجھے رڈ کرتا ہے وہ اُسے رو کرتا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ ” اُسے مانو“ تم کیا بلکہ تمہارے باپ دادا بھی منتظر تھے کہ مسیح موعود جلد آئے۔ اور سچائی کی رُوح اُن کے اندر یہ پکارتی تھی کہ وہ چودھویں صدی کے سر پر آئے گا۔ لیکن جب وہ آیا تو تم نے اُس کو کافر اور دجال ٹھہرایا اور ضرور تھا کہ ایسا ہی ہوتا۔ کیونکہ آثار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اُسے کافر اور دقبال ٹھہرایا جائے گا۔ اگر میں نہ آیا ہوتا تو تم پر کوئی حجت نہ تھی لیکن میرے آنے سے خدا تعالیٰ کی تم پر حجت پوری ہوگئی۔ یہ مت گمان کرو کہ تمہارے نہ قبول کرنے سے اب وہ سلسلہ جو خدا نے اپنے ہاتھ سے برپا کیا ہے ضائع ہو جائے گا۔ کیونکہ میں بچ بیچ کہتا ہوں کہ خدا بہت سی جماعتیں پیدا کرے گا جو اس کو قبول کریں گی اور پھر اُن کو برکت دے گا یہاں تک کہ ایک دن اسلام کا عزیز گروہ وہی گروہ ہوگا ۔ مگر جو کچھ تم نے کیا یا جو آئندہ خدا کرے گا وہ سب اس الہام کے موافق ہے جو پہلے براہین احمدیہ میں ہو چکا ہے اور وہ یہ ہے۔ دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا ۔ اب ہم پھر کسی قدر طاعون کا ذکر کرنا چاہتے ہیں۔ سو واضح ہو کہ اکثر ظہور اس مرض کا کانوں کے آگے یا بغل کے نیچے یا گنج ران میں ہوتا ہے۔ اس طرح پر کہ ان مقامات کی غدود میں سوج جاتی ہیں یا بدن پر بڑے بڑے پھوڑے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اور طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں جو طاعون ملک شام میں پھوٹی تھی اس کی صورت ظہور یہ تھی کہ صرف چھوٹی سی پھنسی ہتھیلی کے اندر نکلتی تھی اور اسی سے چند گھنٹوں میں انسان کا خاتمہ ہو جاتا تھا ۔ مگر توریت میں جہاں جہاں طاعون کا ذکر کیا گیا ہے صرف پھوڑوں کے