ایّام الصّلح — Page 325
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲۵ امام الصلح کہ اس آیت سے موت ثابت ہوئی تو آسمان سے نازل کیونکر ہوں گے ؟ آسمان پر مُردے تو نہیں رہ سکتے۔ ماسوا اس کے جب کہ مسیح کا کام کسر صلیب ہے تو ایسے وقت میں کہ بجائے کسر صلیب کے کسر اسلام ہی ہو جائے مسیح کا آنا کیا فائدہ دے گا ۔ " پس از انکه من نمانم بچه کار خواہی آمد " اب جب کہ صرف ساٹھ برس سے پنجاب پر عیسائی مذہب کا تسلط ہو کر یہ نوبت ارتداد پہنچ گئی ہے۔ اور چودہ برس چودھویں صدی میں سے گزر گئے اور مسیح موعود نہ آیا تو گو یا کم سے کم سو برس کی اور پاور یوں کو مہلت دی گئی کیونکہ بموجب آثار صحیحہ کے مسیح موعود کا صدی کے سر پر آنا ضروری ہے پس اس صورت میں خیال کر لینا چاہیے کہ کیا اس مدت تک اسلام میں سے کچھ باقی رہے گا؟ اس سے تو نعوذ باللہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا خود ارادہ ہے کہ اسلام کو دنیا پر سے اُٹھا دے۔ کیونکہ رحم کرنے کا وقت تو یہی تھا جب (۸۹) کہ اسلام پر سخت حملے کئے گئے سخت بے ادبیاں کی گئیں ۔ لاکھوں انسان مرتد ہو چکے جسمانی وباؤں میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ جب مثلاً کسی حصہ ملک میں طاعون پھیلتی ہے تو دانشمند لوگ خیال کرنے لگتے ہیں کہ اب عنقریب ہم اور ہماری اولا د اور ہمارے عزیز بھی نشانہ طاعون بنے کو ہیں۔ تب اسی وقت سے تدابیر مناسبہ عمل میں لائی جاتی ہیں۔ حکام بھی قلع قمع مرض کے لئے پوری توجہ کرتے ہیں۔ طبیب جاگ اُٹھتے ہیں۔ لہذا اب انصافاً بتلاؤ کہ کیا ملک میں یہ طاعون نہیں پھیلی ؟ کیا اب تک اسلام کی رو میں دس کروڑ کے قریب کتاب نہیں لکھی گئی کیا اس طاعون کی اب تک کئی لاکھ واردا تیں نہیں ہوئیں؟ کیا یہ بچ نہیں کہ کئی لاکھ بیمار نیچریت کے رنگ میں فلسفیت کے رنگ میں اباحت کے رنگ میں مخلوق پرستی کے رنگ میں وساوس اور شبہات کے رنگ میں غفلت اور لا پرواہی کے رنگ میں بستر مرگ پر پڑے ہوئے ہیں؟ پھر کیا سبب کہ اس وقت بھی اللہ تعالی اپنی اس وحی کو یاد نہ کرے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ ہماری آخری نصیحت یہی ہے کہ تم اپنے ایمان کی خبر داری کرو۔ نہ ہو کہ تم تکبر اور لاپروائی دکھلا کر خدائے ذوالجلال کی نظر میں سرکش ٹھہرو ۔ دیکھو خدا نے تم پر ایسے وقت میں نظر کی جو نظر کرنے کا وقت تھا سو کوشش کرو کہ تا تمام سعادتوں کے وارث ہو جاؤ ۔ خدا نے آسمان پر سے الحجر: ١٠