ایّام الصّلح — Page 326
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲۶ امام الصلح دیکھا کہ جس کو عزت دی گئی اس کو پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے۔ اور وہ رسول جو سب سے بہتر تھا اُس کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ اُس کو بدکاروں اور جھوٹوں اور افتر ا کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اور اُس کی کلام کو جو قرآن کریم ہے بُرے کلموں کے ساتھ یاد کر کے انسان کا کلام سمجھا جاتا ہے۔ سواس نے اپنے عہد کو یاد کیا۔ وہی عہد جو اس آیت میں ہے اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ سو آج اُس عہد کے پورے ہونے کا دن ہے۔ اُس نے بڑے زور آور حملوں اور طرح طرح کے نشانوں سے تم پر ثابت کر دیا کہ یہ سلسلہ جو قائم کیا گیا اُس کا سلسلہ ہے کیا کبھی تمہاری آنکھوں نے ایسے قطعی اور یقینی طور پر وہ خدا تعالی کے نشان دیکھے تھے جواب تم نے دیکھے؟ خدا تمہارے لئے گشتی کرنے والوں کی طرح غیر قوموں سے لڑا اور اُن پر فتح پائی۔ دیکھو تھم کے معاملہ میں بھی ایک کشتی تھی۔ تلاش کرو آج آتھم کہاں تھے؟ سنو! آج وہ خاک میں ہے۔ وہ اس شرط کے موافق جو الہام میں تھی چند روز چھوڑا گیا اور پھر اس شرط کے موافق جو الہام میں تھی پکڑا گیا۔ دوسری کشتی لیکھر ام کا معاملہ تھا ۔ پس سوچ کر دیکھو کہ اس کشتی میں بھی خدا تعالیٰ کیسے غالب آیا ؟ اور تم نے اپنی آنکھ سے دیکھا کہ جس طرح اُس کی موت کی الہامی پیشگوئیوں میں پہلے سے علامتیں مقرر کی گئی تھیں اُسی طرح وہ سب علامتیں ظہور میں آئیں ۔ خدا کے قہری نشان نے ایک قوم پر سخت سوگ وارد کیا۔ کیا کبھی تم نے پہلے اس سے دیکھا کہ تم میں اور تمہارے رو برو اس جلال سے م آتھم کے متعلق الہام شرعی تھا اگر کوئی شخص صریح بے ایمانی پر ضد نہ کرے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ آتھم نے اپنے اقوال سے اپنے افعال سے اپنے قسم نہ کھانے سے اور باوجود حملوں کے دعوے کے نالش نہ کرنے سے ثابت کر دیا کہ اُس نے اپنے دل میں رجوع کر کے الہامی شرط کو پورا کیا۔ اور اگر کوئی نادان اب بھی خیال کرے کہ اس کا رجوع کرنا مشتبہ ہے تو خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے فیصلہ سے ہماری تائید میں دو ہرا ثبوت دے دیا ہے اور وہ یہ کہ جب آھم نے قسم کھانے سے انکار کیا تب فیصلہ کے لئے دوسرا الہام یہ ہوا تھا کہ اگر آتھم اس دعوے میں سچا ہے کہ اُس نے رجوع نہیں کیا تو وہ عمر پائے گا اور اگر جھوٹا ہے تو جلد مر جائے گا۔ چنانچہ اب کئی سال اُس کی موت پر بھی گذر گئے پھر اس نشان میں کیا شبہ رہا؟ منه الحجر: ١٠