ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 550

ایّام الصّلح — Page 322

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲۲ اتمام الصلح آثار میں یہ خبر موجود ہے اور شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانی جیسا بزرگوار بھی شہادت دیتا ہے کہ مسیح موعود سے ضرور علماء کا اختلاف ہو گا حتی کہ آمادہ فساد ہو جائیں گے تو پھر اس جھگڑے کو ذہن میں رکھ کر یہ شہادت دینی ضروری ہے کہ ایسے اختلاف کے وقت مسیح موعود حق پر ہوگا اور اُس کا فہم سند پکڑنے کے لائق ہو گا اور اس کے مقابل پر جو دوسروں نے سمجھا ہے وہ رڈ کرنے (۸۶) کے لائق ہوگا اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ جب پہلی کتابوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے آنے کی نسبت پیشگوئی کی گئی تھی اس میں بھی یہی لکھا گیا تھا کہ یہود اس مسیح موعود سے بعض مسائل میں اختلاف اور جھگڑا کریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور بڑا جھگڑا یہود نے یہ کیا کہ ایلیا دوبارہ دنیا میں نہیں آیا اور لکھا گیا تھا کہ جب تک ایلیا دوبارہ دنیا میں نہ آوے مسیح موعود نہیں آوے گا پھر یہ شخص کیونکر آ گیا ؟ اس وقت نیک دل انسانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ یہ شخص یعنی عیسی جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے یہ نشان دکھلاتا ہے اس لئے اس کا فہم مقدم اور قبول کے لائق ہے اور دوسرے جاہل لوگ مولویوں سے متفق ہو گئے اور آثار میں تھا کہ اسلام میں جو مسیح موعود آئے گا اُس کے ساتھ بھی علماء بعض مسائل میں جھگڑا کریں گے اور قریب ہوگا کہ اس پر حملہ کریں۔ سو وہی جھگڑا اور اسی رنگ میں اب بھی شروع ہو گیا۔ مگر یہ جھگڑا ایسے شخص کے ساتھ کرنا کہ جو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور نشان دکھلاتا ہے سراسر نادانی ہے ۔ کیونکہ ہر ایک کو اول تو یہ مان لینا چاہیے کہ مسیح موعود کے ساتھ ضرور جھگڑا ہوگا اور دوسرے یہ کہ اس وقت مسیح موعود کا ہم اعتبار کے لائق ہوگا نہ دوسروں کا فہم کیونکہ وہ خدا کے فرستادہ کا فہم ہے۔ ہاں اگر یہ شک ہو کہ شاید یہ شخص مسیح موعود نہیں ہے تو اُس کو اسی طرح پر کھنا چاہیے جیسا کہ بجے نبیوں کو نیک نیتی کے ساتھ پر کھا گیا۔ مگر قرآن اور حدیث کی تفسیر کے وقت بہر حال مسیح موعود کا قول قابل قبول ہوگا۔ بالآخر یادر ہے کہ جس قدر ہمارے مخالف علماء لوگوں کو ہم سے نفرت دلا کر ہمیں کافر اور بے ایمان ٹھہراتے اور عام مسلمانوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ یہ شخص معہ اس کی تمام جماعت کے عقائد اسلام اور اصول دین سے برگشتہ ہے۔ یہ اُن حاسد مولویوں کے وہ افترا ہیں کہ