ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 550

ایّام الصّلح — Page 321

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲۱ اتمام اصلح محدث ہو یا رسول یا نبی خدا تعالیٰ کی کسی کتاب یا احادیث کے وہ معنے کرے جو اس قوم نے نہیں کئے جن کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت میں ایسا ہی ہوا۔ یہودیوں نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے یہ معنے گئے کہ در حقیقت وہی یعنی ایلیا ہی دوبارہ آ جائے گا۔ مگر ۸۵ عیسی علیہ السلام نے ان آیتوں کے یہ معنے نہ کئے بلکہ دوبارہ آنے کو استعارہ اور مجاز قرار دیا ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہود نے توریت کے بعض مقام کے یہ معنے کئے کہ آخری نبی جو ان کو غیر حکومتوں سے چھڑائے گا وہ بنی اسرائیل میں سے ہو گا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ معنے کئے کہ وہ بنی اسمعیل میں سے ہے۔ ایسا ہی اس وقت میں ہوا۔ اور ایک شخص جو ذرہ عقل اور فہم سے کام لے سمجھ سکتا ہے کہ جو بعض مقامات قرآن شریف مثلاً وفات یا حیات حضرت مسیح علیہ السلام اور دوسرے امور جو ہمارے اور مخالف علماء میں متنازعہ فیہ ہیں اُن میں ہماری طرف سے کیسے شافی دلائل بیان کئے گئے ہیں اور کیسے کامل طور پر حضرت عیسی کی وفات کا ثبوت دیا گیا ہے۔ اور اگر کوئی شخص اس بحث میں نہ پڑے تو اُس کو اس مختصر سوال کا جواب دینا چاہیے کہ کیا مسیح موعود کا فہم زیادہ قابل اعتبار ہے یا اُس کے مخالفوں کا فہم ؟ فرض کرو کہ مخالف علماؤں کی آرزوؤں کے موافق حضرت عیسی علیہ السلام ہی آسمان سے نازل ہوئے اور کئی مقامات قرآن اور حدیث میں علماء سے ان کا جھگڑا ہے جیسا کہ مجد والف ثانی صاحب اپنے مکتوبات میں لکھتے بھی ہیں کہ ضرور مسیح موعود کا بعض مسائل میں علماء وقت سے اختلاف ہوگا اور سخت نزاع واقع ہوگی اور قریب ہو گا کہ علماء اُن پر حملہ کریں تو میں آپ صاحبوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسے وقت میں کس کا فہم صحیح سمجھا جائے گا اور تقویٰ کا طریق کیا ہوگا؟ کیا اس مسیحیت کے مدعی کا فہم لائق ترجیح اور تقدیم ہوگا یا علماء مخالف کا فہم ؟ اگر کہو کہ علماء کا فہم۔ تو یہ امرتو ببداہت واضح البطلان ہے اور اگر کہو کہ مسیحیت کے مدعی کا فہم ! تو پھر تمام منقولی بحثیں ختم ہو گئیں ۔ اس صورت میں تو تمہیں مان ☆ لینا چاہیے کہ مسیح موعود جو کچھ قرآن اور حدیث کے معنے کرے وہی ٹھیک ہیں ۔ اور پھر جب کہ جمل اصل بات یہ ہے کہ مسیحیت یا نبوت وغیرہ کا دعویٰ کرنے والا اگر در حقیقت سچا ہے تو یہ ضروری امر ہے کہ اس کا فہم اور درایت اور لوگوں سے بڑھ کر ہو تو اس صورت میں اُس میں اور اس کے غیر میں کلام الہی کے معنے کرنے میں بعض جگہ اختلاف واقع ہونا ضروری ہے۔ سو ایسے اختلاف کی بنا پر واویلا مچانا محرومی اور بدنصیبی کی نشانی ہے۔ منہ