ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 550

ایّام الصّلح — Page 320

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲۰ اتمام الصلح (۸۴) ہمارے مقابل پر تقویٰ کو ضائع کیا اور راستی سے دشمنی کی وہ نہایت خطر ناک حالت میں ہیں اور اگر وہ اس بدسیرت میں اور بھی ترقی کریں اور رفتہ رفتہ کھلے کھلے طور پر قرآن شریف سے منہ پھیر لیں تو ان سے کیا تعجب ہے !! حالات موجودہ سخت خوف میں ڈالتے ہیں کیونکہ وہ زیر کی جو زمانہ کے مناسب حال ان لوگوں میں پیدا ہونی چاہیے تھی وہ ان کو چھو بھی نہیں گئی۔ آج تک یہ لوگ اس قابل بھی نہیں ہوئے که ان موٹے اور خائنانہ اعتراضات کا جواب دے سکیں جو پادریوں کی طرف سے ہوتے ہیں۔ حالانکہ پادریوں کے اعتراض ایسے بیہودہ ہیں کہ گو بظاہر کیسے ہی ملمع کر کے دکھلائے جائیں لیکن اگر پردہ اُٹھا کر دیکھو تو بالکل کمزور اور جنسی کے لائق ہیں۔ یہ لوگ یعنی عیسائی علوم عربیہ اور ہماری کتب دینیہ سے سخت غافل سخت بے خبر اور قابل شرم باتیں پیش کرتے ہیں تا ہم ان مولویوں کی حالت پر افسوس جو ہمیں تو کافر اور کاذب قرار دیں لیکن جو واقعی طور پر اُن کو خدمت دینی کرنی چاہیے تھی نہ وہ خدمت کرتے ہیں اور نہ اس لائق ہیں کہ کر سکیں ۔ افسوس انہیں سوچتے کہ ایسے دعوے پر جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے رُو سے ایک دن ضرور ہی واقع ہونے والا تھا اس قدر تکذیب کا زور دینا پر ہیز گاری کی شان سے بہت ہی بعید تھا۔ پھر جس حالت میں وہ دعوی مجرد دعوی ہی نہ تھا اس کے ساتھ قرآن اور حدیث کی شہادتیں تھیں۔ اس کے ساتھ ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کردہ شہادتیں تھیں۔ اس کے ساتھ آسمانی نشان تھے اس کے ساتھ صدی کا سر بھی تھا اس کے ساتھ علامات قرار دادہ کا وقوع تھا تو یہ شتاب کاریاں کب مناسب تھیں ! اے زود رنج اور بداخلاقی اور بدظنی میں غرق ہونے والو! وہ پیشگوئی جو بڑے شد ومد سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اور خود اس کا وقت بھی مقرر فرما دیا تھا اور وصیت کی تھی کہ اس شخص کو قبول کرو تو کیا ایسا دعویٰ جو رسول کریم کی پیشگوئی کی بنا پر اور عین وقت پر تھا جس میں اس پیشگوئی کی تصدیق تھی ایسی چیز تھی کہ ایک معمولی نظر سے اُس کو دیکھا جائے اور اس سے بے پروائی ظاہر کی جائے۔ یہ بات تو کوئی نئی نہ تھی کہ آنے والا خواہ