ایّام الصّلح — Page 315
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۱۵ اتمام اصلح تم اطاعت کرتے ہو؟ دیکھو کس قدر گواہیاں میرے اس دعوئی پر ہیں۔ (۱) نئے نشان جو میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے اور ہور ہے ہیں الگ گواہیاں ہیں۔ (۲) ہمارے سید و مولی کی علامات مقرر کردہ کا اس وقت پورا ہونا یہ الگ شہادتیں ہیں۔ (۳) اہل کشف کی پیشگوئیوں کا اس زمانہ میں میرے حق میں پورا ہونا ۔ جیسے شاہ ولی اللہ کی پیشگوئی اور نعمت اللہ کی پیشگوئی اور گلاب شاہ کی پیشگوئی یہ تمام الگ شہادتیں ہیں۔ (۴) اور صدی کے سر کا ایک ایسے مجد دکو چاہنا جو کسر صلیب کے لئے مامور ہو یہ الگ شہادت ہے ۔ (۵) زمانہ کی حالت موجودہ کا ایسے امام کو چاہنا جو آفات حملہ صلیبہ کے مناسب حال ہو یہ الگ شہادت ہے۔ غرض ہر ایک طریق سے حجت پوری ہو گئی ہے۔ اب جو شخص انکار کرتا ہے وہ خداتعالیٰ کے ارادہ کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اگر کوئی شخص تعصب سے الگ ہو کر اور پاک طبیعت لے کر ہمارے ان دلائل کو با معان نظر دیکھے گا وہ نہ صرف یہی دلائل بلکہ دلائل پر دلائل معلوم کرے گا اور ثبوت پر ثبوت اُسے نظر آئے گا۔ جو لوگ اس بات کو نہیں مانتے کہ یہی وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اُن کو بڑی دقتیں پیش آئی ہیں اور اُن کا دل ہر وقت انہیں جتلا رہا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے الزام کے نیچے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا مقرر کر دو زمانہ آ گیا اور بہت سا حصہ اُس میں سے گذر بھی گیا۔ پھر اس وقت مسیح موعود (۸۰) کے ظہور سے انکار گویا خدا اور اُس کے رسول کے فرمودہ سے انکار ہے۔ کیا نہیں دیکھتے کہ وہ آفتیں بر پا ہیں جن کا بر پا ہونا مسیح موعود کے ظہور کے لئے ایک پختہ اور قطعی علامت ٹھہرایا گیا تھا۔ کیا انہیں معلوم نہیں ہوا کہ کسوف خسوف رمضان پر بھی کئی سال گذر گئے جو دارقطنی میں امام باقر سے مہدی موعود کا نشان قرار دیا گیا تھا اور اس کا معجزہ سمجھا جاتا تھا ۔ اور یہ نشان مہدی موعود یعنی خسوف کسوف ماہ رمضان میں فتاوی ابن حجر میں لکھا گیا تھا جو حنفیوں کی ایک نہایت معتبر کتاب ہے ۔ پھر کیا وجہ کہ زمین کے نشان بھی ظاہر ہو گئے اور آسمان کے بھی ۔ مگر مسیح موعود ظاہر نہ ہوا ؟ کیا ارتداد کی وبا پھوٹ نہیں پڑی ؟ کیا اب تک کئی لاکھ آدمی طعمہ نہنگ مخلوق پرستی نہیں ہو چکا ؟ کیا عیسائیت آگ کے طوفان کی طرح بہت سے گھروں کو کھا نہیں گئی ؟ پس کیا اب تک وہ