ایّام الصّلح — Page 311
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۱۱ امام الصلح کمال کو نہیں پہنچے اور ابھی تو ہین اور جھوٹے الزامات کے لگانے اور مخلوق کو دھوکا دینے اور ارتداد کا بازار گرم کرنے میں کچھ کر باقی رہ گئی ہے۔ میں خیال کرتا ہوں کہ ایسا خیال بجز کسی سیاہ دل نادان کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اور سچا محب اللہ رسول کا جس وقت وہ کتابیں دیکھے گا جو صلیب کی تائید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں لکھی گئی ہیں تو بے شک اس کا جگر پاش پاش ہوگا اور وہ ضرور سمجھ لے گا کہ یہ وہ غلو ہے جو تو ہین اسلام اور تائید باطل میں انتہا تک پہنچ گیا ہے۔ اور جب یہ قبول کر لیا گیا کہ غلو انتہا تک پہنچ گیا ہے تو ساتھ ہی ماننا پڑا کہ کسر صلیب کا وقت آ گیا اور جب وقت آ گیا تو ساتھ اس کے یہ بھی ماننا پڑا کہ اب وہ دن ہیں کہ جن میں ضرور ہے کہ مسیح موعود ظاہر ہو چکا ہو کیونکہ خدا کے وعدوں کا ٹلنا محال ہے۔ ہاں ہم بار بار یاد دلاتے ہیں کہ کسر صلیب کا وقت تو آ گیا لیکن یہ کسر محض روحانی طریق سے ہوگا۔ خدا تعالیٰ نے یہی ارادہ فرمایا ہے کہ جس طرز پر مخالف کے حملے ہوں اُسی طرز پر ان حملوں کا ذب اور دفع کیا جائے۔ پس جبکہ محض قلم اور تحریر اور تقریر کے رُو سے حملے ہیں اس لئے مناسب ہے کہ اسلام کی طرف سے بھی تحریر اور تقریر تک حملے محدود ہوں اور کوئی اشتعال اور غضب جہادی لڑائیوں کے رنگ میں ظاہر نہ ہو بلکہ نرمی اور بُردباری سے دشمن کی غلطیوں کو دور کر دیا جائے اور یہ بھی مناسب نہیں کہ عیسائیوں کی سخت گوئی سُن کر حکام کے آگے استغاثہ کریں کیونکہ یہ بھی ضعف کی نشانی ہے۔ مذہبی آزادی سے جیسا کہ عیسائی فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ایسا ہی مسلمان بھی اُٹھا سکتے ہیں مگر تہذیب اور نرمی کے ساتھ ۔ یاد رکھو کہ عیسائیوں اور آریوں کی طرف سے ہزار ختی کی جائے گو وہ کیسی ہی بدگوئی کریں گالیاں نکالیں لیکن اگر نرمی سے کام لو گے اور یہ دباری سے سختی کا جواب دو گے تو ایک دن ضرور ایسا آئے گا کہ نادان معترض سمجھ جائیں گے کہ یہ تمام اعتراضات اُن کی اپنی ہی غلط کاریاں تھیں تب ندامت کے ساتھ اپنی شوخیوں اور بد زبانیوں سے تو بہ کریں گے۔ آب ہم پھر اصل مطلب کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ حدیثوں کے رو سے مسیح موعود کے (۷۷) ظہور کی یہ علامت ہے کہ اُس وقت صلیبی مذہب کی تائید میں بڑی بڑی کوششیں کی جائیں گی