ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 550

ایّام الصّلح — Page 300

روحانی خزائن جلد ۱۴ امام الصلح یہ لوگ دراصل یہودی ہی ہیں۔ اور بر نیر صاحب اپنی کتاب وقائع عالمگیر میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں بقیه حاشیه یادگار کے لئے اُس خیبر کے نام پر جو عرب میں ہے جہاں یہودی رہتے تھے رکھا تھا۔ تیسرا قرینہ ایک یہ بھی ہے کہ افغانوں کی شکلیں بھی اسرائیلیوں سے بہت ملتی ہیں ۔ اگر ایک جماعت یہودیوں کی ایک افغانوں کی جماعت کے ساتھ کھڑی کی جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ اُن کا منہ اور ان کا اونچا ناک اور چہرہ بیضاوی ایسا با ہم مشابہ معلوم ہوگا کہ خود دل بول اُٹھے گا کہ یہ لوگ ایک ہی خاندان میں سے ہیں۔ چوتھا قرینہ افغانوں کی پوشاک بھی ہے افغانوں کے لمبے گرتے اور جیتے یہ وہی وضع اور پیرا یہ اسرائیلیوں کا ہے جس کا انجیل میں بھی ذکر ہے۔ پانچواں قرینہ اُن کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلا تکلف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔ مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتی کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو بُرا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔ چھا قرینہ افغانوں کے بنی اسرائیل ہونے پر یہ ہے کہ افغانوں کا یہ بیان کہ قیس ہمارا مورث اعلیٰ ہے ان کے بنی اسرائیل ہونے کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں سے جو کتاب پہلی تاریخ کے نام سے موسوم ہے اس کے باب ۹ آیت ۳۹ میں قیس کا ذکر ہے اور وہ بنی اسرائیل میں سے تھا۔ اس سے ہمیں پتہ ملتا ہے کہ یا تو اسی قیس کی اولاد میں سے کوئی دوسرا قیس ہو گا جو مسلمان ہو گیا ہوگا اور یا یہ کہ مسلمان ہونے والے کا کوئی اور نام ہوگا اور وہ اس قیس کی اولاد میں سے ہوگا۔ اور پھر باعث خطاء حافظہ اس کا نام بھی قیس سمجھا گیا۔ بہر حال ایک ایسی قوم کے منہ سے قیس کا لفظ نکلنا جو کتب یہود سے بالکل بے خبر تھی اور محض ناخواندہ تھی۔ یقینی طور پر یہ سمجھا تا ہے کہ یہ قیس کا لفظ انہوں نے اپنے باپوں سے سنا تھا کہ ان کا مورث اعلیٰ ہے۔ پہلی تاریخ آیت ۳۹ کی یہ عبارت ہے ۔ اور نیر سے قیس پیدا ہوا اور قیس سے ساؤل پیدا ہوا اور ساؤل سے پھو نتن۔“ ساتواں قرینہ اخلاقی حالتیں ہیں۔ جیسا کہ سرحدی افغانوں کی زودرنجی اور تلون مزاجی اور خود غرضی اور گردن کشی اور کج مزاجی اور کج روی اور دوسرے جذبات نفسانی اور خونی خیالات اور جاہل اور بے شعور ہونا مشاہدہ ہو رہا ہے۔ یہ تمام صفات وہی ہیں جو تو ربیت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں اور اگر قرآن شریف کھول کر سورہ بقر سے بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پڑھنا شروع کرو تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا سرحدی افغانوں کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ہیں۔ اور یہ رائے یہاں تک صاف ہے کہ اکثر انگریزوں نے بھی یہی خیال کیا ۔ ہے۔ بر نیر نے جہاں یہ لکھا ہے کہ کشمیر کے مسلمان کشمیری بھی دراصل بنی اسرائیل ہیں۔ وہاں بعض انگریزوں کا بھی حوالہ دیا ہے اور ان تمام لوگوں کو اُن دس فرقوں میں سے ٹھہرایا ہے جو مشرق میں گم ہے ۔ اس زمانہ میں پتہ ملا ہے کہ وہ در حقیقت سب کے سب مسلمان ہو گئے